فلوجہ سے امریکی فوج کاانخلاء شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک کاہ کی شدید جھڑپوں کے بعد امریکی فوج نے عراقی شہر فلوجہ سے انخلا شروع کردیا ہے اور اس کے دو بریگیڈز فرنٹ لائن پوزیشنیں چطوڑ کر پیچھے ہٹ چکی ہے۔ اس سے پہلے فلوجہ میں مقامی امریکی کمانڈر نے کہا ہے کہ محصور شہر سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کے لئے ایک لائحہ عمل پر اتقاق ہوگیا ہے جس کے تحت عراقیوں پر مشتمل فورس شہر کا نظم و نسق سنبھالے گی۔ لیفٹننٹ کرنل برینان بائرنے کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر جمعہ کے روز عملدرآمد شروع ہو رہا ہے۔ تاہم واشنگٹن میں امریکی حکام نے ایسے کسی فیصلہ سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ کرنل بائرنے نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے سابق عراقی فوج کے افسران سے ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت وہ شہر میں امن بحال کرنے مدد دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی فورس ’فلوجہ پروٹیکشن آرمی‘ کہلائی گی جس میں گیارہ سو فوجی ہوں گے جس کی قیادت صدام حسین کی فوج کے ایک سابق جنرل کریں گے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ فوج امریکی فوجیوں کی ماتحت رہے گی۔ ادھر فلوجہ میں اس منصوبہ کے اعلان کے بعد امریکی جنگی طیاروں نے مزاحم عراقیوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔ امریکی فضائیہ کے ترجمان کے مطابق ان حملوں میں دو عمارتوں کو تباہ کر دیا گیا۔ فلوجہ میں تقریباً تین لاکھ سنّی عراقی رہتے ہیں اور یہاں امریکی قبضے کے خلاف شدید مزاحمت ہوئی ہے۔ اس ماہ کے آغاز پر چار امریکی شہریوں کی ہلاکت کے بعد امریکی فوج نے پانچ اپریل کو شہر کا محاصرہ کر لیا تھا اور مزاحمت کاروں پر حملے شروع کر دیئے تھے۔ فلوجہ میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ محاصرے کے بعد سے چھ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ہزاروں شہری نقل مکانی کر گئے ہیں۔ ادھر گزشتہ روز بغداد کے نواح میں مختلف واقعات میں دس امریکی فوجیوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||