منگل کی شب فلوجہ میں کیا ہوا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صباح منیر الانی عراق کے شہر فلوجہ میں ایک ریٹائرڈ ڈاکٹر ہیں۔ امریکی افواج نے اپریل کے آغاز سے فلوجہ کا حصار کرلیا ہے۔ منگل کی شب ہونے والی امریکی کارروائی پر ان کا ردعمل: ’’منگل کی شب امریکی فوجیوں نے الجولان کے علاقے کی جانب پیش قدمی کرنی شروع کی۔ اس علاقے پر طیاروں اور ٹینکوں سے حملے ہوئے اور میں سن سکتا تھا کہ الجولان میں تین علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ شہر کے شمال میں ایک مسجد اور ایک قبرستان ہے جہاں سے امریکی فوجیوں نے داخل ہونے کی کوشش کی۔ انہیں مزاحمت کاروں کا سامنا کرنا پڑا جو چھوٹے ہتھیاروں سے لیس تھے۔ امریکی ان کا سامنا نہیں کرسکتے تھے، لہذا طیارے اور توپ استعمال کیے گئے۔ کچھ گھروں میں آگ لگ گئی۔ لوگوں نے اس علاقے میں اپنے گھروں کو چھوڑ دیا ہے۔ ایمبولنس اور فائر انجن اس علاقے میں نہیں پہنچ سکے۔ پورے شہر میں صرف ایک یا دو فائر انجن ہیں۔ اور حملوں کی وجہ سے تین مقامات پر آگ لگنے کے واقعات ہوئے۔ گھروں میں جو آگ لگی وہ بجھائی نہیں جاسکی۔ بدھ کی صبح کچھ لوگ الجولان گئے جہاں تباہی کا منظر تھا۔ المادید مسجد کا منارہ تباہ ہوگیا تھا اور متعدد اموات ہوئی تھیں۔ کچھ مسجدوں سے ایمبولنس کے لئے اعلان کیا جارہا تھا۔ مسجدوں سے اعلانات کیے جارہے تھے کیونکہ شہر کے بیشتر علاقے میں فون لائن منقطع ہوگئی تھی۔ بجلی کی فراہمی بھی بند ہوگئی تھی۔ ان حالات میں ایمبولنس وہاں نہیں جاسکتی تھیں۔ بدھ کی صبح حالات میں نرمی تھی۔ مشرق میں واقع ایریز کراسِنگ کی جانب سے کچھ خاندانوں کو شہر میں جانے دیا گیا۔ دوپہر کے بعد لوگوں کو شہر میں نہیں داخل ہونے دیا گیا۔ بدھ کی صبح شہر میں سِول ڈیفنس فورس تعینات تھی اور امریکی فوجیوں نے انڈسٹریل ایریا میں اہم مقامات پر کمانیں سنبھال لی تھیں۔ لیکن امریکیوں اور عراقیوں پر مبنی جوائنٹ پٹرول توقعات کے برعکس فلوجہ میں داخل نہیں ہوئی۔ تب سِول ڈیفنس فورس واپس ہوگئی اور دوپہر میں انڈسٹریل ایریا کے جنوب میں فضائی حملے شروع ہوگئے۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے قریب میں رہتا ہوں۔ ہلاک ہونیوالوں کی تعداد نہیں بتائی جاسکتی ہے کیونکہ ہسپتال کام نہیں کررہے ہیں یا دور دراز علاقے میں ہیں۔ دریائے فرات کی دوسری جانب ایک ہسپتال ہے لیکن بند ہے۔ شہر کے مرکز میں اور مسجدوں میں عارضی ہسپتال قائم کیے گئے۔ کچھ ڈاکٹروں نے زخمیوں کا علاج اپنے گھروں میں کیا۔ ان حالات میں زخمیوں اور مرنے والوں کی تعداد بتانا مشکل ہے۔ ہم لوگ ایک مشکل حالات سے گزر رہے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ پاس کے گھروں میں بھی لوگ رہ رہے ہیں یا نہیں۔ کچھ مکانات حملوں کی زد میں آئے تھے اور ہمیں نہیں معلوم کہ کچھ لوگ ملبوں کے نیچے دبے ہیں یا نہیں۔ کچھ لوگوں نے ہلاک ہونیوالوں کو اپنے گھر کے احاطے میں دفن کردیا ہے اور اس وقت کا انتظار کررہے ہیں تاکہ حالات بہتر ہوں اور انہیں قبرستان منتقل کیا جائے۔ مجھے یقین ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد توقع سے زیادہ ہوگی۔ فلوجہ کے متعدد باشندے یا تو شہر سے باہر چلے گئے یا الجمہوریہ اور الاندلس جیسے قدرے محفوظ مقامات کی جانب منتقل کر گئے۔ لاکھوں لوگ بغداد یا رمادی چلے گئے یا فلوجہ کے بیرونی علاقوں میں پناہ لیے ہیں۔ کچھ لوگ پناہ گزیں کیمپوں میں رہ رہے ہیں جہاں سہولیات کی کمی ہے اور یہ فلسطینی رفیوجی کیمپوں سے بھی بدترین ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء کی کمی ہے، حالات خراب ہیں۔ شہر پر قبضہ پچیس دن قبل شروع ہوا تھا۔ تب سے میری فیملی ٹن کے ڈبوں میں ملنے والے روٹی اور چاول کھاکر جی رہی ہے۔ پھل، سبزیاں یا گوشت نہیں ہے۔ دکانیں اور بازار بند ہیں اور ہمیں روٹیاں قدیمی طریقے سے پکانی پڑتی ہیں۔‘‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||