BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 May, 2004, 01:42 GMT 06:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلوجہ: ’عراقی فوج‘ کے ہاتھ میں
News image
فلوجہ سے امریکی فوجیوں کے انخلا پر عراقی خوش ہیں
عراق کے محصور شہر فلوجہ میں ایک ماہ کے خونریز معرکہ کے بعد اب عراقی سکیورٹی دستوں نے مورچے سنبھالنا شروع کر دیئے ہیں اور وہاں تعینات امریکی فوج واپس جانا شروع ہو گئی ہے۔

معزول صدرصدام حسن کے ریپبلیکن گارڈ کے سابق کمانڈر جنرل جسیم محمد صالح کی قیادت میں دو سو فوجیوں پر مشتمل فلوجہ بریگیڈ جمعہ کی رات کو شہر میں داخل ہوئی۔

اس سے قبل جب امریکی مرین فوجیوں نے اپنے مورچوں کے خار دار تار لپیٹنا اور اپنی چوکیاں ختم کرنے کا عمل شروع کیا تو شہریوں کے ایک بڑے ہجوم نے خوشی سے رقص کیا۔

عراق میں امریکی فوجوں کے کمانڈر جنرل جان ابی زید نے توقع ظاہر کی ہے کہ نئے عراقی سکیورٹی دستے شہر کے عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔

عین اس وقت جب امریکی مرین فوج کے دستے شہر سے واپس جا رہے تھے فلوجہ میں امریکی فوجی اڈے کے قریب ایک بم حملہ میں دو امریکی فوجی مارے گئے۔

News image
جنرل صالح

فلوجہ بریگیڈ کے سربراہ جنرل جسیم محمد صالح نے کہا ہے کہ وہ ایک نئی ہنگامی فوج تشکیل دے رہے ہیں جو شہر میں امن و امان بحال کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔

ا نہوں نے کہا کہ یہ فوج ایک ہزار افراد پر مشتمل ہوگی جسے امریکی فوج کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ فلوجہ کے شہری امریکی فوج کو رد کرتے ہیں۔ تاہم یہ فوج امریکی فوج کے سامنے جواب دہ ہو گی۔

دریں اثنا امریکی فوجی ترجمان جنرل مارک کیمیٹ کا کہنا ہے کہ امریکی مرین نے جنرل صالح کی پوری طرح جانچ پڑتال کی ہے اور ان پر پورا اعتماد ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ مرین فوج فلوجہ سے پسپا ہورہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد