فلوجہ: ’عراقی فوج‘ کے ہاتھ میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے محصور شہر فلوجہ میں ایک ماہ کے خونریز معرکہ کے بعد اب عراقی سکیورٹی دستوں نے مورچے سنبھالنا شروع کر دیئے ہیں اور وہاں تعینات امریکی فوج واپس جانا شروع ہو گئی ہے۔ معزول صدرصدام حسن کے ریپبلیکن گارڈ کے سابق کمانڈر جنرل جسیم محمد صالح کی قیادت میں دو سو فوجیوں پر مشتمل فلوجہ بریگیڈ جمعہ کی رات کو شہر میں داخل ہوئی۔ اس سے قبل جب امریکی مرین فوجیوں نے اپنے مورچوں کے خار دار تار لپیٹنا اور اپنی چوکیاں ختم کرنے کا عمل شروع کیا تو شہریوں کے ایک بڑے ہجوم نے خوشی سے رقص کیا۔ عراق میں امریکی فوجوں کے کمانڈر جنرل جان ابی زید نے توقع ظاہر کی ہے کہ نئے عراقی سکیورٹی دستے شہر کے عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔ عین اس وقت جب امریکی مرین فوج کے دستے شہر سے واپس جا رہے تھے فلوجہ میں امریکی فوجی اڈے کے قریب ایک بم حملہ میں دو امریکی فوجی مارے گئے۔
فلوجہ بریگیڈ کے سربراہ جنرل جسیم محمد صالح نے کہا ہے کہ وہ ایک نئی ہنگامی فوج تشکیل دے رہے ہیں جو شہر میں امن و امان بحال کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ ا نہوں نے کہا کہ یہ فوج ایک ہزار افراد پر مشتمل ہوگی جسے امریکی فوج کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ فلوجہ کے شہری امریکی فوج کو رد کرتے ہیں۔ تاہم یہ فوج امریکی فوج کے سامنے جواب دہ ہو گی۔ دریں اثنا امریکی فوجی ترجمان جنرل مارک کیمیٹ کا کہنا ہے کہ امریکی مرین نے جنرل صالح کی پوری طرح جانچ پڑتال کی ہے اور ان پر پورا اعتماد ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ مرین فوج فلوجہ سے پسپا ہورہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||