بد سلوکی پرصدر بش ناخوش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے عراق میں قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ بھی عالمی برادری کی طرف سے اظہارِ ناپسندیدگی میں برابر کے شریک ہیں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بغداد کے قریب واقع جیل میں موجود قیدیوں کے ساتھ امریکی فوجیوں کی مبینہ بدسلوکی کی تصاویر نشر کئے جانے کے بعد عالمی سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید ردِ عمل سامنے آیا ہے۔ امریکہ، برطانیہ اور مشرق وسطیٰ کے سیاستدانوں نے امریکی ٹی وی پر دکھائی جانے والی ان تصاویر پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرنے پر زور دیا ہے۔ ٹی وی چینل سی بی ایس نیوز کا کہنا ہے کہ اس نے پہلے دو ہفتے تک یہ تصاویر نشر نہیں کی تھیں کیونکہ پینٹاگون نے عراق میں جاری صورت حال کے تناظر میں تصاویر ٹی وی پر نہ دکھانے کی درخواست کی تھی۔ امریکی فوجیوں کے ہاتھوں عراقی قیدیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی الزام پر امریکی فوج نے سترہ سپاہیوں کو معطل کر دیا تھا۔ ان تصاویر میں کئی امریکی فوجیوں کو اس ساری کاروائی کونظر انداز کرتے ہوئے اس طرح کے سلوک کی بظاہر حمایت کرتے دکھایا گیا ہے۔ سی بی ایس ٹی وی کے مطابق اس کے پاس موجود تصاویر کے مطابق عراقی قیدیوں پر مختلف نوعیت کی زیادتیاں کی جا رہی ہیں جن میں کئی قیدیوں کے نازک اعضا کو دھاتی تار سے باندھا گیا ہے اور ان کو زبر دستی ایک دوسرے کے ساتھ سیکس کرنے کی ایکٹنگ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ایک قیدی کے جسم پر گالیاں لکھی گئی ہیں اور ایک اور قیدی پر ایک کتے سے حملہ کروایا گیا ہے۔ ان تصویروں میں امریکی، قیدیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر ہنس رہے ہیں، یا ان کی طرف طنزیہ اشارے کر رہے ہیں یا پھر بڑے شوق سے کیمرے کے سامنے اپنی تصویر بنواتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ایک تصویر میں قیدیوں کو برہنہ کرنے کے بعد ایک دوسرے کے اوپر ڈال دیا گیا ہے اور عقب میں امریکی کھڑے ہنس رہے ہیں۔ دریں اثناء عراق کے دیگر مقامات پر ایک ماہ کی خون ریز لڑائی کے بعد عراقی شہر فلوجہ سے امریکی فوج کی واپسی شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق معزول عراقی صدر صدام حسین کے ایک سابق جنرل کی سربراہی میں نئی عراقی فوج امریکی فوج کی جگہ لے گی۔ تاہم امریکی فوج شہر کے باہر موجود رہے گی۔ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے ترجمان نے کہا ہے کہ انہیں مذکورہ عراقیوں کی تصاویر ٹی وی پر دیکھ کر شدید دھچکا لگا۔ ترجمان نے اس واقعہ کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ یہ تصاویر عراق میں موجود ڈیڑھ لاکھ اتحادی فوجیوں کی نمائندگی نہیں کرتیں۔ امریکی ریپبلکن پارٹی کے رکن جِم لیچ نے، جنہوں نے عراقی جنگ کی مخالفت کی تھی، کہا ہے کہ ’امریکہ کو تاریخی طور پر اس بات پر فخر رہا ہے کہ اس نے جو سلوک جنگی قیدیوں سے روا رکھا‘۔ عراق کی گورننگ کونسل کے رکن عدنان الپچاچی نے کہا ہے کہ اس واقعہ کے باعث عراقیوں میں غم و غصے کی شدید لہر دوڑ جائے گی کیونکہ انہیں ملکی سلامتی کے حوالے سے پہلے ہی سخت تشویش لاحق ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||