’ہتھیار پھینکو ورنہ دوبارہ حملے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوجی کمانڈر نے کہا ہے کہ فلوجہ کے باغیوں نے اگر ہتھیار نہیں پھینکے تواتحادی فوجیں دوبارہ حملے شروع کر دیں گی ۔ اور یہ ہفتوں نہیں دنوں کی بات ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل جیمز کونوے کے بقول ان کے پندرہ سو میرینز نے تقریباً دو سو غیر ملکی لڑاکوں کو فرار ہونے سے روکا ہوا ہے۔ بغداد کے مغرب میں واقع اس شہر میں بدھ کے روز لڑائی دوبارہ چھڑ گئی جس کے نتیجہ میں انتالیس عراقی ہلاک ہو گئے تھے۔ پانچ اپریل کو لڑائی شروع ہونے کے بعد ہزاروں شہری نقل مکانی کر گئے تھے۔ امریکی فوجی کمانڈر جیمز کونوے کا کہنا ہے کہ اتحادی افواج اور مقامی رہنماؤں کے مابین کسی معاہدہ کا امکان بہت مایوس کن ہے۔ انھوں نے عراقی امن مذاکراتی ٹیم کی صلاحیتوں پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمیں ان کی صلاحیتوں پر شک ہے کیونکہ جن لوگوں نےہتھیار اٹھا رکھے ہیں وہ کوئی اور ہیں۔‘ بی بی سی کی نمائندہ جنیفر گلاس کا کہنا ہے کہ امریکی خیال کرتے تھے کہ بھاری اسلحہ باغیوں کو پر امن حل کی طرف مائل کردے گا۔
جیمز کونوے نے کہا کہ ’ہم کل (بدھ کے روز) کی صورتحال سے خوش نہیں ہیں۔ اور اب یہ ہفتوں کی نہیں بلکہ دنوں کی بات ہے اور اگر پر امن صورتحال نظر نہ آئی تو وہ وہی کریں گے جس کے لئے وہ آئے ہیں کیونکہ محاصرہ ہمیشہ کے لئے جاری نہیں رہ سکتا۔‘ امریکی افواج مطالبہ کر رہی ہیں کہ مارچ کے آخر میں ہلاک ہونے والے چار امریکی افراد کے قاتل ان کے حوالے کئے جائیں اور شہر کو بھاری اسلحہ سے پاک کیا جائے۔ تین لاکھ آبادی کے شہر فلوجہ میں ایک اندازے کے مطابق چھ سو شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکی جنرل رچرڈ مائرز نے کہا ہے کہ فلوجہ کے خلاف کارروائی ضرور ہو کر رہے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم حملہ آوروں کی تلاش میں گئے تھے اور چوہے کے بِل میں آ گئے ہیں۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||