فلوجہ: مستقل جنگ بندی کے لئے مذاکرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلوجہ میں مستقل جنگ بندی کے مذاکرات جاری ہیں جبکہ شہر کے مختلف حصوں سے لڑائی کے اکا دکا واقعات کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ امریکی فوج اور مسلح عراقیوں کا کہنا ہے کہ وہ شہر میں عارضی جنگ بندی کی پابندی کر رہے ہیں۔ امریکی میرین فوجیوں کے مطابق انہوں نے ایک مسلح عراقی شدت پسند کو اس وقت گولیاں مار کر ہلاک کر دیا جب اس نے امریکی سپاہیوں پر فائرنگ کی۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں امریکی فوج شہر سے نکل جائیں گی اور ان کی جگہ عراقی فوجیوں اور پولیس کو شہر میں تعینات کیا جائے گا۔ امریکی فوج نے ابھی تک ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی ہے۔ عراقی شہر فلوجہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایک ایسے وقت میں فائرنگ کے تبادلے کے واقعات ہوئے ہیں جب گزشتہ ایک ہفتے سے جاری شدید جھڑپوں کے بعد جنگ بندی ہونے کو تھی۔ نامہ نگاروں کے بقول مقامی جنگجوؤں اور شہر کا محاصرہ کرنے والی امریکی فوج کے درمیان فائرنگ کے الگ الگ واقعات ہوئے ہیں۔ ایک عراقی مصالحت کار کاہتان الرباعی کے مطابق امریکی کمانڈر اس بات سے آگاہ تھے کہ مزاحمت کرنے والے مسلح افراد کو کسی ایک قیادت کی سرپرستی حاصل نہیں ہے اس لئے مکمل جنگ بندی پر عمل درآمد کسی حد تک مشکل ہو گا۔ اس سے پہلے عراقی مذاکرات کاروں نے کہا تھا کہ فلوجہ میں اتحادی فوج سے برسرِ پیکار عراقیوں اور امریکی فوج کے درمیان بارہ گھنٹے کی جنگ بندی پر اصولی اتفاق ہو گیا ہے جو عراقی وقت کے مطابق صبح شروع ہوگی۔
ادھر عراق کی حکمراں کونسل کے رکن محمد عثمان نے بتایا کہ فلوجہ کی اتحاد مخالف ملیشیا کا مطالبہ یہ ہے کہ امریکی فوجی فلوجہ سے واپس بلائے جائیں۔ جبکہ امریکی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل کمیت نے اتحاد مخالف عناصر سے کہا تھا کہ وہ ان لوگوں کو اتحادی فوج کے حوالے کر دیں جو مارچ کے اواخر میں چار امریکی ٹھیکے داروں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||