عراقی حکمراں کونسل کی تنقید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی مقرر کردہ عراقی حکمراں کونسل کے چند ارکان نے فلوجہ میں امریکی فوج کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔ کونسل کے ایک اعلٰی سنی رہنما عدنان پچاچی نے اس کارروائی کو غیر قانونی اور ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس آپریشن کے ذریعے فلوجہ کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو سزا دی جارہی ہے۔ کونسل کے کرد رکن محمود عثمان نے کہا ہے کہ امریکی اس معاملے سے منفی انداز میں نمٹ رہے ہیں۔ صدام حکومت کے خاتمے کو ایک سال پورا ہونے کے موقع پر برطانیہ کے وزیر خارجہ جیک سٹرا نے کہا ہے ’جس روز صدام حکومت کا خاتمہ ہوا تھا میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بارہ ماہ میں حالات اس قدر خراب ہوجائیں گے‘۔ فلوجہ میں چند روز سے شدید لڑائی جاری ہے اور امریکی فوجی اپنا کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتہ شہر میں کئی جھڑپیں ہوئی ہیں جن کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ایک مسجد کے احاطے پر امریکی فوج کی بمباری سے تقریباً چالیس عراقی ہلاک ہوگئے تھے۔ امدادی تنظیم ریڈ کراس نے بھی کہا ہے کہ اسے عراق میں بڑھتے ہوئے تشدد پر تشویش ہے۔ اس نے لڑائی میں مصروف فوج اور مسلح گروہوں پر زور دیا ہے کہ وہ عام شہریوں کا احترام کریں اور زخمیوں کو طبی امداد حاصل کرنے میں مدد فراہم کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||