بغداد: دو جرمن بھی لاپتہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی دارالحکومت بغداد میں اردن کے سفارتخانے سے جرمنی کے سفارتخانے کی طرف جاتے ہوئے جرمنی کے دو سکیورٹی اہلکار بھی لاپتہ ہو گئے ہیں۔ لاپتہ ہونے والے ان دو افراد کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ سفارتخانے کے گارڈ تھے۔ گزشتہ چند روز میں عراق میں لاپتہ ہونے والے غیرملکی باشندوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے ہی واقعات میں تین جاپانی اور دو غیر عراقی عرب باشندوں کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ گزشتہ پیر کو ناصریہ میں بھی ایک برطانوی لاپتہ ہو گیا تھا۔ تاہم لندن کے دفتر خارجہ نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ برطانوی باشندے کو بھی اغوا ہی کیا گیا تھا۔ دوسری جانب جاپان نے اپنے تین شہریوں کے عراق میں اغوا کئے جانے کے ضمن میں اردن سے سفارتی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ چار جاپانیوں کے اغوا کنندگان نے جاپانی حکومت کو اتوار تک عراق سے اپنی فوجیں واپس بکلانے کی مہلت دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر اتوار تک فوج واپس بلانے کا اعلان نہ کیا گیا تو وہ یرغمالیوں کو زندہ جلا دیں گے۔ اس کے علاوہ انسانی ہمدردی کی تنظیم ریڈ کراس کے لئے کام کرنے والے ایک جوڑے کو عراق کے شمالی شہر موصل میں نامعلوم حالات میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ریڈ کراس کے ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے جوڑے کی لاشیں جل کر مسخ ہو چکی تھیں اور سڑک پر پڑی تھیں۔ ترجمان نے مرد کی شناخت کرتے ان کا نام برازان محمد احمد بتایا تھا جو اربیل شہر میں ریڈ کراس کے ڈائریکٹر تھے۔ محمد احمد اور ان کی اہلیہ کام کے سلسلے میں موصل جانے کے بعد لاپتہ ہو گئے تھے۔ اس سے پہلے عراق میں امریکہ کے خلاف نبرد آزما جنگجوؤں نے دو امریکی اور چار اطالوی شہریوں کو بھی اغوا کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ خبر رساں ادارے رائٹر کے ایک رپورٹر کا کہنا تھا کہ اس نے دو غیر ملکیوں کو جو اس کے خیال میں اٹلی کے شہری تھے، بغداد کے مضافات میں ایک مسجد میں دیکھا تھا۔ رائٹر کے رپورٹر نے دونوں افراد کو ضلع ابو غریب کی مسجد میں دیکھا۔ اس کے مطابق دونوں شخص روتے ہوئے چلا رہے تھے کہ وہ اطالوی ہیں۔ایک کے کاندھے میں زخم تھا۔ دونوں مرد تھے اور انھوں نے نیلے رنگ کی ٹی شرٹش پہنی ہوئی تھیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||