جنگ بندی کیلئے امریکی اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی فوجی کمانڈر جنرل مارک کیمِٹ نے سنی مزاحمتی گروہوں سے جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔ جنرل کیمٹ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکی فوجیں جنگ بندی کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ لڑائی بند ہو جانے کی صورت میں وہ فلوجہ شہر میں عراقی انتظامیہ قائم کرنے کی کوشش کی جائےگی۔ جنرل کیمٹ نے اس امید کا اظہار کیا کہ پریس کانفرنس کے ذریعے مخالف دستوں کو امریکی فوج کا پیغام پہنچ جائے گا لیکن انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فوج اپنے دفاع کا حق ہر وقت محفوظ رکھتی ہے۔ دریں اثناء جنوبی عراق کے شہر کربلا میں شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد ایک مذہبی تہوار میں شرکت کے لئے جمع ہوئے ہیں۔ کربلا شہر اس وقت مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کے قبضے میں ہے۔ امریکی فوج نے کہا ہے کہ وہ ان زائرین کے تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ اس سے پہلے عراق میں امریکہ کی نامزد کردہ گورننگ کونسل نے عراقیوں اور امریکی فوج کے درمیان جاری لڑائی روکنے پر زور دیا تھا۔ گورننگ کونسل نے فلوجہ گزشتہ دو ہفتوں سے جاری جھڑپوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ فلوجہ اور دیگر شہروں میں شیعہ اور سنی گروہوں اور اتحادی فوجوں کے درمیان جاری جھڑپوں کا سیاسی حل تلاش کیا جانا چاہئے۔ عراق اور افغانستان کے لئے مقرر کئے گئے امریکی کمانڈر جنرل جان ابیزید نے بھی فلوجہ کا دورے پر کہا تھا کہ امریکی فوج اپنے دفاع کے لئے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||