’فلوجہ میں مردم کُشی ہو رہی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے مختلف شہروں میں امریکی کی جنگی حکمتِ عملی کی مخالفت میں خود عراق میں اور بیرونی دنیا میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ عراق کی عبوری کونسل کے کچھ ارکان نے استعفٰی دے دیا ہے جبکہ روس نے الزام لگایا ہے کہ امریکہ نے عراق میں طاقت کا غیر متوازن استعمال کیا ہے۔ عراق میں عبوری کونسل کے اراکین نے جن کا تقرر امریکہ نے کیا تھا، فلوجہ میں امریکی فوجی کارروائی پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔ ایک رکن کے مطابق امریکی کارروائی ’مردم کشی‘ کے برابر ہے۔ کونسل کے رکن کا یہ بیان ان خبروں کے بعد آیا جن کے مطابق ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ تین لاکھ سنی مسلمانوں کے شہر میں اس ہفتے چار سو پچاس افراد مارے گئے اور ایک ہزار کے قریب زخمی ہیں۔ ادھر شیعہ مسلمانوں کے دھڑے کے سربراہ مقتدی الصدر نے کہا ہے کہ امریکہ عراق میں بدامنی کا ذمہ دار ہے اور انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ عراق سے امریکی فوج باہر نکل جائے۔ فلوجہ میں امریکی فوج نے عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا لیکن بعد میں آنے والی خبروں کے مطابق لڑائی رات کے وقت پھر شروع ہوگئی۔ غازی اجیل الیاور جو عراق کی حکمراں کونسل کے رکن ہیں اور سنی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں کہا ہے کہ وہ اگر امریکہ نے فلوجہ کے بحران کا پر امن حل تلاش نہ کیا تو وہ استعفی دینے پر تیار ہو جائیں گے۔ انہوں نے اے ایف سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ جیسی سپر پاور فلوجہ جیسے چھوٹے شہر میں کس منہ سے جنگ کر رہی ہے۔ بقول ان کے یہ مردم کشی ہے۔ ایک دوسرے رکنِ کونسل عدنان پچاچی کا کہنا تھا کہ فلوجہ آپریشن غیر قانونی ہے اور کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں جبکہ کرد کے ایک رکنِ کونسل نے امریکی پالیسی کو غیر مفید قرار دیا۔ عراق کے حقوقِ انسانی کے عبوری وزیر عبدالباسط اور ایک رکن علاوی نے جمعہ کو بغیر کوئی وجہ بتائے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||