عراق: تشدد میں مزید اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں وزارتِ صحت کے ایک اعلیٰ اہلکار کو نامعلوم افراد نے پیر کے روز قتل کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بغداد کے جنوب میں واقع شہر محمودیہ میں ایک ہسپتال کے ڈپٹی ڈائریکٹر قاسم العبیدی کو ڈیوٹی کے بعد گھر جاتے ہوئے ہلاک کر دیا گیا۔ اس سے قبل عراقی وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کو بغداد میں نا معلوم مسلح افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ مصعب العوادی وزارت داخلہ میں قبائلی مسائل کے نائب سربراہ تھے۔ ان کے علاوہ ان کے دو محافظ بھی اس حملے میں مارے گئے ہیں۔ عراق میں اقتدار کی منتقلی کے بعد یہ دسواں ایسا حملہ ہے جس میں عراقی اہلکاروں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ دریں اثناء عراق میں تشدد کے دیگر واقعات میں سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بصرہ میں مسلح افراد نے برطانوی افواج کے لیے کام کرنے والی دو عراقی عورتوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ عراق کے عبوری وزیر اعظم ایاد علاوی نے تشدد اور دہشت گردی کے خلاف سخت کارووائی کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ مگر عراقی حفاظتی افواج کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باوجود تشدد کے واقعات میں کوئی خاص کمی نہیں ہوئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||