’قیدیوں سے بد سلوکی قابلِ نفرت‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سرپرستی میں چلنے والے الحرا ٹیلی ویژن پر انٹرویوں دیتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ وہ عراق میں امریکہ کے زیر حراست قیدیوں سے بدسلوکی کے واقعات کو قابلِ نفرت سمجھتے ہیں۔ امریکی صدر عربی زبان میں نشریات کرنے والے ٹیلی ویژن پر اس لیے آئے ہیں کہ عربوں کی دلجوئی کر سکیں اور ان میں پائی جانے والی اس ناراضگی کا کچھ ازالہ کر سکیں جو مذکورہ بد سلوکی کی تصاویر اور خبریں سامنے آنے سے پیدا ہوئی ہے۔ صدر بش نے کہا کہ یہ واقعات اس امریکہ کی نمائندگی نہیں کرتے جو مہربان ہے جو آزادی کا احترام کرتا ہے اور جو ہر روز عراقیوں کی مدد کرتا ہے۔ صدر بش نے وعدہ کیا کہ ان بد سلوکیوں کی تحقیقات کی جائیں گی اور اور ان کا ارتکاب کرنے والوں کو انصاف کے روبرو لایا جائے گا۔ صدر بش کا کہنا تھا کہ یہ وہ واضح فرق ہے جو صدام کے زمانے میں اور اس وقت میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں بدسلوکیوں کے ان الزامات کے بارے میں پہلی بار جنوری میں اس وقت علم ہوا تھا جب ان الزامات کے تحت امریکی فوج نے تحقیقات شروع کی تھیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا ان الزامات کے نتیجے میں ان کی انتظامیے کا کوئی ذمہ دار تنزل اختیار کرے گا تو انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے وزیرِ دفاع عراق میں ان کمانڈروں پر مکمل اعتماد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی عوام بھی مبینہ بد سلوکی کی ان تصاویر پر اتنے ہی ناراض ہیں جتنے کہ عراقی عوام۔ فلسطین کے بارے پالسی پر کیے جانے والے ایک سوال کے جواب میں صدر بش نے کہا کہ وہ پہلے امریکی صدر ہیں جس نے فلسطینی ریاست کی بات کی ہے اور انہیں اب بھی امید ہے کہ یہ ریاست قائم ہو گی۔ غزہ سے انخلاء کے لیے اسرائیلی وزیرِ اعظم کے یک طرفہ منصوبے کے بارے میں صدر بش نے کہا کہ مسٹر شیرون نے اس منصوبے کے لیے سیاسی خطرات مول لیے ہیں۔ صدر بش نے اس موقع پر اسرائیل کے بارے میں اپنی پالیسی کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیروں کے غزہ سے انخلاء کے منصوبے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ صدر بش دبئی سے نشریات کرنے والے ٹیلی ویژن العربیہ کو بھی انٹرویو دینے والے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||