عراق ڈائری: عراقی کیا کہتے ہیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں موجودہ حالات میں گھرے ہوئے عام لوگوں پر کیا گذر رہی ہے؟ ’عراق بلاگ‘ کے اس سلسلہ کے تحت ہم عراق میں موجود مختلف لوگوں کے تاثرات آپ تک پہنچا رہے ہیں۔ آپ ان صفحات میں پڑھ سکیں گے کہ یہ مرداورعورتیں اوران کے دوست احباب اپنی روزمرہ زندگی کیسےگذار رہے اورعراق کے بارے میں آنے والی خبریں ان کے لیے کیا معنی رکھتی ہیں۔
’کیا کہوں کیسی گذر رہی ہے؟ خدا کا شکر ہے ابھی تک زندہ ہوں۔ میرے نئے ہسپتال میں حالت اب بھی خراب ہے۔ ہسپتال کی انتظامیہ حالیہ بم دھماکے میں عمارت کو پہنچنے والےنقصان کی مرمت میں مصروف ہے جبکہ اب بھی ہسپتال میں ادویات اور آلات کی شدید کمی ہے۔ عراق میں عمارتوں کی بحالی کا کاروبار خوب چمکا ہے کیونکہ اس میں بےشمار پیسے بنایا جا سکتا ہے۔ لوکل کمپنیوں کے ساتھ جوڑ توڑ کے ذریعے کئی لوگ تعمیریاتی ٹھیکوں کے ذریعے خوب کما رہے ہیں۔ سننےمیں آیا ہے کہ ہسپتال سے منسلک ڈاکٹروں کی رہاشگاہ کی صرف بحالی کا ٹھیکہ ایک ملین ڈالر میں ہوا ہے۔ پوری عمارت کی تعمیر پر اس سے کم رقم خرچ ہوئی تھی جبکہ اس ٹھیکے میں صرف عمارت کا فرنیچر تبدیل ہوگا، چھوٹی موٹی مرمت اور رنگ وروغن کے علاوہ ایرکنڈیشنر اور بوائلر کی مرمت ہو گی۔ شہر میں پٹرول کی شدید قلت ہے۔ ہر پٹرول پمپ پرگاڑیوں کی ایک کلومیٹر لمبی قطاریں معمول بن چکی ہیں۔ مجھےاس بات سے ڈرلگتا ہے کہ امریکی فوجی عراقیوں کو دیکھ کر نروس ہو جاتے ہیں اور بلا وجہ فائرنگ شروع کر دیتے ہیں۔ بغداد میں باہر نکلنا اوردوستوں سےملنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ جمعے کی نماز کا وقت ہو رہا ہے،اجازت چاہوں گا۔‘
’ میں اپنی سیکنڈری سکول میں نوکری کی اس درخواست کا سوچ سوچ کر تھک چکی ہوں جس کا کوئی ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔ کل ہی میں نے وزارتِ تعلیم سے پھر رابطہ کیا کہ میری درخواست کا کیا ہوا۔ ان کا جواب تھا کہ مجھےانتظار کرنا پڑے گا کیونکہ میں اکیلی نہیں جسے جواب کا انتظار ہے۔ مجھے یہ اشارہ بھی دیاگیا کہ میں کسی’بڑے افسر، سے بات کروں تا کہ میری درخواست پر کوئی عملدرآمد ہو۔ عراق میں اگر آپ کے موجودہ سیاسی انتظامیہ، جو کہ سیاسی جماعتوں کا ایک ملغوبہ ہے،میں کسی سے رابطہ ہو جائے توآپ کی درخواست خود بخود قطار پھلانگ کر سب سے آگے پہنچ جاتی ہے۔ اور میری طرح جن لوگوں کےاس قسم کے روابط نہیں ہیں ان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ انتظار کریں۔ لیکن میں خوش ہوں کہ شکر ہے عراقی ٹی وی نے ملازمتوں کے اشتہار دینا شروع کر دیے ہیں۔ میری کوشش ہے کہ میں اپنی فیملی کی مالی مدد کر سکوں کیونکہ میرے شوہر کی ملازمت مستقل نہیں۔ ایک بات اچھی ہوئی ہے، ہمارے فون نے خراب موسم اور طوفان کے بعد پھر سےکام کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ بھی خود سے نہیں ہوا بلکہ میرے شوہر کو ٹیلیفون کے دفتر جا کر منت سماجت کرنا پڑی تھی۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایک ہمدرد نے یہ تجویز بھی دی تھی کہ اگر ہم کچھ پیسے دینے کو تیار ہوں تو فون جلدی بحال بھی ہو سکتا ہے۔‘
’ جمعرات کی شام بصرہ میں ایک عجیب واقعہ ہوا۔ ایک سائیکل سوار نے ایک عمارت پر ھینڈ گرینیڈ پھینک دیا۔ یہ عمارت پولنگ سٹیشن کے طور پر استعمال ہونا تھی۔ عمارت کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی کوئی جانی نقصان ہوا کیونکہ اس وقت وہاں کوئی نہیں تھا۔ صاف ظاہر ہے گرینیڈ پھینکنے کامقصد صرف لوگوں کو ڈرانا تھا۔ یہاں انتخابات کے بارے میں لوگ خاصے ناخوش ہیں۔ آپ کو نہیں لگتا کہ انتخابات کوئی بڑا واقعہ ہوں گے کیونکہ لوگ اپنی روزمرہ کے مسائل کے بارے میں پریشان ہیں۔ یہاں تک کہ اگر آیت اللہ سستانی نہ کہتے تو شاید کوئی ووٹ ڈالنے بھی نہ جاتا۔ بصرہ کہ لوگ ابھی تک کسی بہتر یا روشن مستقبل کا تصور ہی نہیں کر سکتے تاہم ملک کے جنوبی حصوں میں حالات اتنے برے نہیں۔ بہت سے لوگ، خاص طور پر نوجوان، ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ لوگ عرب امارات، اردن یا شام جانے کا سوچ رہے ہیں۔ مجھے بھی یہاں تاریکی ہی دکھائی دیتی ہے لیکن میں اپنے کام کی وجہ سے رکا ہوا ہوں۔ آج صبح ہی میں ان چھ لوگوں کے انٹرویو لینے گیا ہواتھا جنہیں نیشنل گارڈ اور پولیس کی تحویل سے رہا کیا گیا ہے۔ان لوگوں کو نو دن قبل غیر ملکی جنگجوؤں کو پناہ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان افراد کا تعلق بصرہ سے ہی ہے اور جب میں انہیں ملا توانہوں نے قسمیں کھا کر کہا کہ انہوں نے کبھی بھی اس قسم کی حرکت نہیں کی۔میں نے ان کے جسموں پر تشدد کے بہت برے نشان دیکھے اور بہت افسردہ ہوا۔ مجھے لگا کہ واقعی برے دن ختم ہوتے ہوتے بھی طویل عرصہ گذر جاتا ہے۔ ہمیں صدام دورمیں بری طرح دبایا گیااور نئی انتظامیہ بھی ایسا ہی کر رہی ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||