بغداد: تھانوں پر حملے، 26 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی دارالحکومت میں تھانوں پر حملے اور کار بم دھماکے میں کم از کم چھبیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں بارہ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ شمالی بغداد کے علاقے ازہامیہ میں شیعہ مسلک کی ایک مسجد کے باہر کار بم کے ایک حملے میں کم از کم چودہ افراد ہلاک ہو گئے۔ اس دھماکے میں کئی افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ عراقی وزارتِ داخلہ کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سنی اکثریت کے علاقے میں شیعہ مسجد میں یہ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک خود کش حملہ آور نے ایک کار کو اس وقت دھماکے سے اڑا دیا جب لوگ ’حامد الاعوان‘ مسجد سے نمازِ فجر کے بعد باہر آ رہے تھے۔ ادھر بغداد کے جنوب مغربی علاقے میں مسلح افراد نے ایک تھانے پر حملہ کر کے بارہ پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ حملہ آوروں نے تھانے میں قید افراد کو رہا کروا لیا اور ہتھیاروں پر قبضہ کر لیا۔ الامل ڈسٹرکٹ میں پولیس تھانوں پر حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے ہوا۔ حملہ آوروں نے تھانوں پر مارٹر بموں سے حملہ کیا۔ ایک عینی شاہد کے مطابق حملہ آوروں نے تھانے پر ’چاروں طرف ‘ سے حملہ کیا۔ عینی شاہدین نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ حملہ آور کوڑے دانوں کی آڑ لے کر تھانوں پر فائرنگ کر رہے تھے جبکہ پولیس اہلکار اپنی جانیں بچا کر بھاگ گئے‘۔ بغداد سے بی بی سی کے نمائندے کا کہنا تھا کہ تھانوں پر حملہ کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں لیکن جمعہ کو کیا جانے والا حملہ حملہ آوروں کی دیدہ دلیری کی بنا پر اہم ہے۔ عراقی پولیس اور سکیورٹی ایجنسیاں عام طور پر حملہ آوروں کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔ شمالی شہر موصل میں بھی کم از کم چھ افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ اطلاعات کے مطابق مزاحمت کاروں نے صوبائی حکومت کے دفاتر اور ایک امریکی اڈے پر مارٹروں سے حملے کیے۔ کرکک شہر کے قریب بھی ایک امریکی قافلے پر حملے میں ایک امریکی فوجی ہلاک ہو گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||