عراق کے لیے اچھا کیا ہے ؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے آئندہ انتخابات غیر معمولی انتخابات ہیں۔ ان کے نتیجے میں وجود میں آنے والی پارلیمان کو ملک کا نیا آئین بنانا ہوگا جو ملک کے مختلف طبقات کے لیے قابل قبول ہو۔ یہ پارلیمان صرف ایک نئی نمائندہ پارلیمان نہیں ہوگی۔ اس کے سامنے ایک اہم مسئلہ شیعہ، سنی اور کردوں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہوگا۔ لیکن انتخابی مہم توقع کے مطابق نہیں تھی۔ جوں جوں پولنگ کی تاریخ قریب آ رہی ہے ملک میں تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بغداد کے شمال اور مغرب میں سنی اکثریت والے علاقے تشدد سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ گزشتہ ماہ ملک کی سُنّی اقلیت کی نمائندہ ایک بڑی سیاسی جماعت نے انتخابی مہم سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ ان کے اس اعلان کے بعد سے ملک کی سرکردہ سُنّی شخصیات اور کئی غیر ملکی ماہرین انتخابات ملتوی کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ یہ لوگوں انتخابات ملتوی کرنے کے لیے دلیل پیش کرتے ہیں کہ موجودہ حالات میں سُنّی مسلمانوں کی پارلیمان میں مناسب نمائندگی نہیں ہو سکے گی۔ اور اگر ایسا ہوا تو آئین سازی کا عمل بے معنی ہو جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر ہوگا کہ انتخابات سے پہلے ملک میں امن و امان کی صورتحال قابو میں لائی جائے اور سُنّی مسلمانوں کو بتایا جائے کہ آگے بڑھنے کے لیے سیاسی عمل کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ شیعہ انتخابات وقت پر چاہتے ہیں۔ امریکہ شیعہ اکثریت کو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔ سیاسی اداروں کا قیام کہیں سے تو شروع ہونا ہے۔ تشدد کے مستقبل قریب میں کم ہونے کے کوئی آثار نہیں۔ ان حالات میں انتخابات طے شدہ پروگرام کے مطابق کروانا ہی سب سے کم بُرا فیصلہ ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||