عراق : چار صوبوں میں مشکلات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں انتخابات سے اٹھارہ دن قبل عبوری حکومت کے ارکان نے ان علاقوں کی نشاندہی کرنی شروع کر دی ہے جہاں پر تشدد کارروائیوں کی وجہ سے انتخابات کرانا ممکن نہیں ہو گا۔ عراق کے عبوری وزیر خارجہ ہوشیار زباری نے کہا ہے کہ عراق کے اٹھارہ میں سے چار صوبوں میں ووٹنگ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ مصر کے اخبار الاحرام کو انٹرویو دیتے ہوئِے انہوں نے کہا کہ انتخابات میں لوگوں کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کئے جائیں گے تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ جامع انتخابات کرنا مشکل ہے۔ اس سے پہلےعراق کے وزیر اعظم ایاد علاوی نے بھی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ملک میں جاری تشدد کی وجہ سے کچھ علاقوں میں اس ماہ ہونے والے الیکشن کے لئے ووٹنگ نہیں ہوسکے گی۔ مسٹر علاوی نے کہا کہ ملک میں ایسے علاقے ضرور ہیں جو انتخابات میں حصہ نہیں لے پائیں گے لیکن یہ زیادہ بڑے علاقے نہیں ہیں۔ عراقی وزیر اعظم کا یہ بیان ایک ایسے دن سامنے آیا ہے جب ملک میں مختلف واقعات میں پندرہ افراد ہلاک ہوئے۔ عراق کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اس سال کے بجٹ میں دو اعشاریہ دو ارب ڈالر کی رقم ملک کی سکیورٹی فورسز کو مستحکم کرنے کے لئے مختص کئے ہیں جو تیس جنوری کو ہونے والے انتخابات کے دوران سیکورٹی کی ذمہ دار ہوں گی۔ مسٹر علاوی نے یہ بھی کہا کہ وہ سیکورٹی فورسز کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ کررہے ہیں۔ امریکی فوج نے کہا ہے کہ سب سے زیادہ مشکلات کا سامنہ صوبے النبار میں ہے جو کہ عراق کے تقریباً ایک تہائی حصے پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ نینوا اور شمالی شہر موصل کا علاقہ بھی اس زمرے میں آتے ہیں۔ عراق کی کل دو کروڑ پچاس لاکھ کی آبادی میں سے تیس لاکھ افراد اس خطے میں آباد ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||