عراق، تشدد کی نئی لہر، تیرہ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں تشدد کے تازہ ترین واقعات میں چھ پولیں افسران سمیت کم از کم تیرہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق عراق کے شمالی شہر تکریت میں پولیس ہیڈکواٹرز پر ایک کار بم حملے میں چھ پولیس افسر ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ جنوبی بغداد میں سات عراقی اس وقت ہلاک ہوئے جب ایک امریکی فوجی قافلے کے لیے سڑک کے کنارے رکھا بم پھٹ گیا۔ بغداد کے جنوب میں واقع یوسفیہ کے علاقے میں سڑک کے کنارے نصب کیا گیا بم امریکی فوجی قافلے کے گزر جانے کے کچھ دیر بعد ہی پھٹ گیا اور اس کا نشانہ وہاں سے گزرتی ہوئی ایک منی بس بن گئی۔ ملک بھر میں تیس جنوری کو ہونے والے عام انتخابات سے پہلے سکیورٹی فورسز کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں مزاحمت کاروں نے تقریباً ہر روز سکیورٹی فورسز کو اپنا نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ دریں اثناء سنی رہنماؤں نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکی فوج عراق سے واپس نہ گئی تو وہ انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||