عراق میں تشدد تیس افراد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد کے شمال میں عراقی سکیورٹی فورسز پر حملوں میں سکیورٹی فورس کے تیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ سابق صدر صدام حسین کے آبائی شہر تکریت میں مزاحمت کاروں نے ایک پولیس سٹیشن پر حملہ کر کے بارہ افسروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ میجر علی التکریتی نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ مزاحمت کاروں نے پولیس سٹیشن پر کئی ہتھیاروں کے ساتھ حملہ کیا۔ اس پولیس سٹیشن پر حملے کے علاوہ بھی تکریت کے کچھ حصوں سے حملوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ بکوبہ میں ایک کار بم دھماکے میں عراقی نیشنل گارڈ کے چھ اہلکار ہلاک جبکہ بائیس افراد زخمی ہو گئے۔ رمادی میں ڈپٹی گونر کو اغوا کر نے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ ادھر جمعرات کی صبح ایک واقعے میں بغداد میں عراقی نیشنل گارڈ کے ایک سینیئر افسر کے گھر کے باہر کار بم کے دھماکے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ یہ دھماکہ دارالحکومت کے قریب واقع علاقہ عظیمیہ میں ہوا جس میں عراقی گارڈز اور راہگیر زخمی ہوگئے جن کی تعداد آٹھ بتائی جاتی ہے۔ یہ دھماکے عراق میں اگلے ماہ انتخابات سے پہلے تشدد کی اسی لہر کا حصہ بتائے جاتے ہیں جس کے بارے میں عراق کے سیاسی رہنما اور انتظامیہ کے اہلکار کہتے ہیں کہ یہ انتخابات کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اتوار کو عراق کی ایک اہم شیعہ سیاسی جماعت کے رہنما کے دفتر کے باہر بھی کار بم حملہ ہوا تھا جس میں تیرہ افراد ہلاک اور انتالیس زخمی ہو گئے تھے۔ تاہم شیعہ رہنما اس حملے میں بچ گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||