| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
تکریت میں امریکہ کی جوابی کارروائی
ایک امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کے گرائے جانے کے ایک روز بعد صدام کے آبائی شہر تکریت پر بمباری ہوئی ہے۔ امریکی ایف سولہ جنگی جہازوں سے تکریت پر تین بن گرائے گئے جس کے بعد امریکی فوجی گاڑیاں شہر میں داخل ہو گئیں۔ اطلاعات کے مطابق اس کارروائی میں کئی عمارات کو گرا دیا گیا۔ امریکی توپ خانے کے ایک کمانڈر کا کہنا ہے کہ وہ تکریت کے باسیوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ امریکی فوج کے پاس اب بھی موثر طاقت موجود ہے اور وہ اس کا استعمال بھی کرے گی۔ امریکی حکام ابھی اس بات پر مصر ہیں کہ انہیں ہیلی کاپٹر کے تباہ ہونے کی وجہ کا علم نہیں ہے۔ تاہم امریکی توپ خانے کے کمانڈر نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں ہیلی کاپٹر زمین سے فائر کئے گئے کسی میزائیل کا نشانہ بنا ہے۔ جمعہ کے روز امریکی فوج نے کہا تھا کہ عراق میں سابق عراقی صدر صدام حسین کے آبائی شہر تکریت میں دریائے دجلہ کے نزدیک ایک امریکی ’بلیک ہاک‘ ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں چھ فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ امریکی اور فرانسسی خبر رساں اداروں نے کہا تھا کہ عینی شاہدوں کے مطابق ہیلی کاپٹر کو چھاپہ ماروں نے نشانہ بنایا ہے ۔ امریکی ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق ہیلی کاپٹر میں زمین پر گرنے سے پہلے آگ لگ گئی تھی اور یہ شعلوں کی لپیٹ میں زمین سے آ کر ٹکرایا۔ عینی شاہدین نے ہیلی کاپٹر کے ملبے سے دھواں اٹھتا دیکھا ہے جبکہ دیگر کئی امریکی ہیلی کاپٹر قریبی فضا میں پرواز کررہے تھے۔
گزشتہ ہفتہ عراق میں امریکی ہیلی کاپٹر چینوک پر حملہ کرکے اسے تباہ کردیا گیا تھا۔ اس واقعہ میں، جوکہ عراق جنگ کے بعد امریکی فوجیوں کے خلاف سب سے بڑا حملہ ہے، سولہ امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اب یہ تازہ واقعہ دریائے دجلہ کے کنارے امریکی فوجی مرکز سے ایک کلومیٹر دور وقوع پذیر ہوا ہے۔ پچیس اکتوبر کو امریکی بلیک ہاک تکریت میں تباہ کردیا گیا تھا جس میں عملہ کا ایک اہلکار زخمی ہوگیا تھا۔
دریں اثناء جمعہ کی صبح عراق کے شمالی شہر موصل میں ایک اور واقعے میں ایک امریکی دستے پر حملہ کیا گیا ہے جس میں ایک امریکی فوجی ہلاک جبکہ سات زخمی ہوئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||