عراق کا شام اور ایران پر الزام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ نئے شواہد ملے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران اور شام عراق میں مزاحمت کاروں کی مدد کر رہے ہیں۔ وزیر دفاع نے اپنی بات کے حق میں صحافیوں کو ایک وڈیو فلم دکھائی۔ وڈیو میں مبینہ طور پر جیش محمد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو ایران اور شام سے امداد لینے کا اعتراف کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ عراقی وزیر کے دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ عراقی وزیر نے کہا کہ مداخلت کے جواب میں ’عراق سے لڑائی کو بغداد کی سڑکوں سے دمشق اور تہران لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘۔ ایران اور شام کی حکومتوں نے عراق میں مزاحمت کاروں کے ساتھ رابطوں سے انکار کیا ہے۔ ’عراقی شدت پسند‘ گرفتار اطلاعات کے مطابق ابو احمد نامی اس شخص کو گزشتہ ماہ گرفتار کیا گیا۔ ابو احمد کے گروپ کا تعلق الزرقاوی گروپ سے بتایا جاتا ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ابو احمد موصل میں ’دہشت گردی‘ کی کارروائیاں کرتے رہے ہیں اور اس طرح کی کارروائیوں کے لیے رابطے کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔ امریکہ نے ابو احمد کی گرفتاری کو الزرقاوی گروپ کے خاتمے کی طرف اہم قدم قرار دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||