BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 January, 2005, 13:24 GMT 18:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق کا شام اور ایران پر الزام
عراق میں دھماکے(فائل فوٹو)
لڑائی دمشق اور تہران کی سڑکوں تک جا سکتی ہے: عراقی وزیر (فائل فوٹو)
عراقی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ نئے شواہد ملے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران اور شام عراق میں مزاحمت کاروں کی مدد کر رہے ہیں۔

وزیر دفاع نے اپنی بات کے حق میں صحافیوں کو ایک وڈیو فلم دکھائی۔ وڈیو میں مبینہ طور پر جیش محمد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو ایران اور شام سے امداد لینے کا اعتراف کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

عراقی وزیر کے دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

عراقی وزیر نے کہا کہ مداخلت کے جواب میں ’عراق سے لڑائی کو بغداد کی سڑکوں سے دمشق اور تہران لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘۔

ایران اور شام کی حکومتوں نے عراق میں مزاحمت کاروں کے ساتھ رابطوں سے انکار کیا ہے۔

’عراقی شدت پسند‘ گرفتار
دریں اثناء امریکی فوج نے عراق میں ’القاعدہ کے ایک اہم رکن‘ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ابو احمد نامی اس شخص کو گزشتہ ماہ گرفتار کیا گیا۔ ابو احمد کے گروپ کا تعلق الزرقاوی گروپ سے بتایا جاتا ہے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ابو احمد موصل میں ’دہشت گردی‘ کی کارروائیاں کرتے رہے ہیں اور اس طرح کی کارروائیوں کے لیے رابطے کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔

امریکہ نے ابو احمد کی گرفتاری کو الزرقاوی گروپ کے خاتمے کی طرف اہم قدم قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد