BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 October, 2003, 02:26 GMT 07:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایران سے بات ہو سکتی ہے‘
امریکہ فی الحال ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کے حق میں نہیں
امریکہ فی الحال ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کے حق میں نہیں

امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ محدود موضوعات پر بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن وہ فی الحال ایران سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کے حق میں نہیں۔

کانگرس میں تقریر کرتے ہوئے امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ آرمیٹج نے کہا ہے محدود موضوعات پر جن میں عراق کا مسئلہ، افغانستان اور منشیات کی اسمگلنگ شامل ہیں، ایران کے ساتھ بات چیت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدا میں یہ مذاکرات براہ راست نہیں کئے جائیں گے بلکہ یہ کسی کثیر القومی یا بین الاقوامی ادارے یا اقوام متحدہ کے ذریعے کئے جائیں گے۔

رچرڈ آرمیٹج نے یہ بیان ایران کے اس اعلان کے بعد دیا ہے جس میں ایران نے اپنا ایٹمی پروگرام ختم کر نے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔

امریکہ اور ایران کے سفارت کار نچلی سطح پر اس سال کے آغاز تک بات چیت میں مصروف تھے۔ لیکن امریکہ نے ایران پر القاعدہ کے مفروروں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے مذاکرات کو جاری رکھنے سےانکار کر دیا تھا۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگارکا کہنا ہے کہ ایران سے بات چیت کے معاملے پر واشنگٹن میں شدید بحث جاری ہے۔

آرمیٹج نے کہا کہ ایران میں پکڑے جانے والے القاعدہ کے ارکان سے حاصل ہونے والی معلومات فراہم کرنے سے ایرانی حکومت گریز کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے اس ضمن میں کئی درخواستوں کو رد کر دیا ہے۔

رچرڈ آمیٹیج نے کہا کہ یہ معاملہ بہت اہمیت کا حامل ہے اور اس کے بغیر ایران سے بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی۔

ایران نے اتوار کو یہ اعلان کیا تھا کہ القاعدہ کے جن ارکان کو ملک بدر کر دیا گیا ہے ان کے ناموں کی فہرست سلامتی کونسل کو مہیا کر دی گئی ہے لیکن ایران نے ان ارکان کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی تھی جو ابھی تک ایران کی قید میں ہیں۔

واشنگٹن نے اس اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران القاعدہ کے تمام ارکان کو یا تو امریکہ کے حوالے کرے یا پھر انھیں کسی دوسرے ملک کے حوالے کر دیا جائے۔

ایران کا کہنا ہے کہ ان لوگوں نے ایران میں جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور ان پر ایران کی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں گے۔

دریں اثنا امریکی صدر نے ایک بیان میں ایران اور شام کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے ملکوں سے عراق جانے والے انتہا پسند افراد کو روکیں۔

تہران نے میڈرڈ میں ہونے والی کانفرنس میں عراق کی تعمیر نو میں حصہ لینے کا ارادہ ظاہر کیا تھا اور اس بات پر بھی رضامندی ظاہر کی تھی کہ وہ اپنی کچھ چوکیاں جو عراق کی سرحد کی اندر قائم ہیں ہٹا لے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد