BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 October, 2003, 17:41 GMT 22:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ کا ایران اور شام کو انتباہ
صدر بش
صدر بش وائٹ ہاؤس میں نیوز کانفرنس کے دوران

امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے کہا ہے کہ عراق میں سرحدی علاقوں کی نگرانی کے لیے گشت بڑھا دیا گیا ہے تا کہ بقول ان کے عراق میں خوف اور بے چینی پیدا کرنے والے ان لوگوں کی روک تھام کی جا سکے جنہیں انہوں نے ’ دہشت گردی پر تلے ہوئے‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن عراق کے ہمسایہ ملکوں ایران اور شام کے ساتھ بھی قریبی رابطے میں ہے اور امید رکھتا ہے کہ یہ دونوں ملک بھی اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ان کی سرحدیں دراندازی کے لیے استعمال نہیں کی جا رہیں۔

وائٹ ہاؤں میں نیوز کانفرنس سے کرتے ہوئے انہوں نے کانگریس پر بھی زور دیا کہ وہ ان اضافی رقوم کی منظوری دے دے جس کی درخواست انہوں عراق میں تعمیر نو اور سکیورٹی کے لیے کی ہے۔

انہوں یہ بھی بتایا کہ سرحدوں کی نگرانی میں زیادہ سے زیادہ عراقیوں کو شریک کیا جا رہا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ انہیں زیادہ زیادہ عسکری تربیت حاصل ہو سکے تا کہ وہ خود اپنی سرحدوں کی نگرانی کرنے کے قابل ہو سکیں۔

صدر بش

 ’دہشت گرد‘ یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے خود کش حملوں کو امریکہ ہل جائے گا تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ اس طرح نکلنے والا نہیں

صدر بش نے عراق میں ہونے والے حالیہ واقعات کی ذمہ داری معزول صدر صدام کے حامیوں اور بیرون عراق موجود دہشت گردوں پر عائد کی۔

انہوں کہا کہ ’دہشت گرد‘ یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے خود کش حملوں کو امریکہ ہل جائے گا تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ اس طرح نکلنے والا نہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد