| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کا ایران اور شام کو انتباہ
امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے کہا ہے کہ عراق میں سرحدی علاقوں کی نگرانی کے لیے گشت بڑھا دیا گیا ہے تا کہ بقول ان کے عراق میں خوف اور بے چینی پیدا کرنے والے ان لوگوں کی روک تھام کی جا سکے جنہیں انہوں نے ’ دہشت گردی پر تلے ہوئے‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن عراق کے ہمسایہ ملکوں ایران اور شام کے ساتھ بھی قریبی رابطے میں ہے اور امید رکھتا ہے کہ یہ دونوں ملک بھی اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ان کی سرحدیں دراندازی کے لیے استعمال نہیں کی جا رہیں۔ وائٹ ہاؤں میں نیوز کانفرنس سے کرتے ہوئے انہوں نے کانگریس پر بھی زور دیا کہ وہ ان اضافی رقوم کی منظوری دے دے جس کی درخواست انہوں عراق میں تعمیر نو اور سکیورٹی کے لیے کی ہے۔ انہوں یہ بھی بتایا کہ سرحدوں کی نگرانی میں زیادہ سے زیادہ عراقیوں کو شریک کیا جا رہا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ انہیں زیادہ زیادہ عسکری تربیت حاصل ہو سکے تا کہ وہ خود اپنی سرحدوں کی نگرانی کرنے کے قابل ہو سکیں۔
صدر بش نے عراق میں ہونے والے حالیہ واقعات کی ذمہ داری معزول صدر صدام کے حامیوں اور بیرون عراق موجود دہشت گردوں پر عائد کی۔ انہوں کہا کہ ’دہشت گرد‘ یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے خود کش حملوں کو امریکہ ہل جائے گا تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ اس طرح نکلنے والا نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||