| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں حملے،غیر ملکی کارستانی؟
امریکہ و برطانیہ کا کہنا ہے کہ اس بات کے شواہد بڑھ رہے ہیں کہ عراق میں مغربی اہداف کو نشانہ بنائے جانے کے پیچھے غیر ملکی کارفرما ہیں۔ امریکی سربراہی میں قائم عراق کی عبوری انتظامیہ میں اعلیٰ ترین برطانوی نمائندے جیریمی گرین سٹاک کا کہنا ہے کہ پیر کو دارالحکومت بغداد کے قیامت خیز دھماکوں میں خودکش حملہ آوروں کا استعمال ایک ایسی تکنیک تھی جو ’غیرملکی عناصر‘ ہی سے منسوب ہے۔ عالمی امدادی ادارے ’ریڈ کراس‘ کے صدر دفتر اور عراقی پولیس کے تین تھانوں پر ہونے والے ان خودکش بم حملوں میں تیس سے زیادہ افراد ہلاک اور دو سو کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ بی بی سی کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کا کہنا ہے خفیہ اداروں کے ماہرین کا خیال ہے کہ ان حملوں میں القاعدہ ملوث ہوسکتی ہے۔ تاہم نامہ نگار کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ماہرین کے شبہات ابھی دھندلے اور ناتمام ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں عراقی پولیس کے آٹھ اہلکار، چھبیس عام عراقی شہری اور ایک امریکی فوجی شامل ہیں۔ چوتھے تھانے پر ایک ممکنہ حملہ ناکام بنادیا گیا اور مشتبہ خودکش بمبار کو گرفتار کرلیا گیا جس کا کہنا ہے کہ وہ شام کا شہری ہے اور حکام نے اس کے پاس سے شام کا پاسپورٹ بھی برآمد کیا ہے۔ عراق کی عبوری انتظامیہ میں اعلیٰ ترین برطانوی نمائندے جیریمی گرین سٹاک نے بی بی سی ریڈیو فور سے ایک گفتگو میں کہا کہ ان حملوں سے عندیہ ملتا ہے کہ غیر عراقی جنگجو ان حملوں میں ملوث ہیں۔
انہوں نے کہا ’زیادہ تر حملے تو خودکش حملے تھے۔۔۔بلکہ شاید سب حملے ہی خودکش تھے۔ اور ان علامات سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ صدام کے حامیوں کا نہیں بلکہ دہشت گردی کا ایک غیر ملکی طریقۂ کار ہے۔ ان عناصر کا جن کی تلاش میں ہم سرگرداں ہیں۔‘ ’میرا خیال ہے کہ عراقی اب مشتعل ہونا شروع ہوگئے ہیں کہ غیر ملکی عناصر ان کی سرزمین پر آدھمکے ہیں اور وہاں ان کے (عراقیوں کے) مفادات کے برخلاف ایک جنگ چھیڑ رکھی ہے۔‘ امریکی بریگیڈیئر جنرل مارک ہرٹلنگ کا بھی کہنا ہے کہ پیر کے دھماکوں کی علامات ’ایسا تصدیقی نشان‘ ہیں جن سے غیر ملکیوں کے ملوث ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔ تاہم شمالی عراق میں امریکی فوج کے ایک اعلیٰ افسر میجر جنرل ریمنڈ آڈیرنو کا کہنا ہے کہ عراق کی جنگ میں امریکی فوج کی مخالفت کرنے والے تمام عناصر عراقی ہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’اب تک تو ہم نے غیر ملک جنگجوؤں کی کوئی بڑی دراندازی نہیں دیکھی۔‘ گزشتہ اپریل میں امریکی فوج کے ہاتھوں صدام حسین کے زوال کے بعد پیر عراق کے لئے سب سے زیادہ پرتشدد دن ثابت ہوا ہے۔ پیر کو ہونے والے تمام حملے دو گھنٹوں کے اندر اندر ہوئے اور عالمی امدادی ادارے ریڈ کراس کی عمارت پر ہونے والے حملے کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس میں وہ ایمبولینس استعمال ہوئی تھی جو عمارت میں داخل ہوتے ہی بارود سے اڑ گئی تھی۔ ریڈ کراس کی ایک سو چالیس سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اس معروف غیر جانبدار ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے جو عراق میں بھی گزشتہ دو دہائیوں سے خدمات انجام دے رہا ہے۔ عراق میں کئی امدادی اداروں نے گزشتہ اگست کے اس حملے کے بعد کام بند کردیا ہے جو اقوام متحدہ کی عمارت پر کیا گیا تھا اور جس میں عراق کے لئے اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین مندوب سرجیو ڈی میلو سمیت تیئس افراد مارے گئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||