 |  ’بین الاقومی مشیر عراق میں استحکام کے نام پر حقوق کی پامالی کو نظر انداز کر رہے ہیں۔‘ |
ایک امریکی انسانی حقوق کے ادارے کا کہنا ہے کہ عراقی سیکورٹی فورسز منظم طریقے سے عراقی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کرتی ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق غیر قانونی گرفتاریاں، تشدد اور طویل عرصے تک تنہائی میں قید میں رکھنا جن میں بچے بھی شامل ہیں عراق میں معمول کا حصہ ہے۔ گروپ کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق میں جس میں سن دو ہزار تین سے لے کر اب تک نوے قیدیوں سے انٹرویو کئے گئے، 72 قیدیوں کا کہنا تھا کہ نئے عراقی حکام نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ یہ صحیح ہے کہ عراقی سیکورٹی فورسز مزاحمت کاروں کا نشانہ ہیں لیکن یہ کارروائیاں قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی کے رویے کا جواز نہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کی سربراہ سارا لی وٹسن کا کہنا ہے کہ عراقی سیکورٹی فورسز اور ان کے بین الاقومی مشیر عراق میں استحکام کے نام پر حقوق کی پامالی کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ انہوں نہ کہا کہ صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد عراق کے عوام کو اس سے بہتر زندگی کا وعدہ کیا گیا تھا۔
|