BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 January, 2005, 08:44 GMT 13:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بم حملے کا ماسٹر مائنڈ گرفتار‘
 بغداد
سرکاری بیان کے مطابق الکردی پر 32 کار بم حملوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے
عراقی حکام نے اعلان کیا ہے کہ بغداد کار بم حملوں میں مبینہ طور پر ملوث ایک عسکریت پسند کو گرفتار کیا گیا ہے۔

سمیع محمد علی سعد نامی اس شخص کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ ابو مصعب الزرقاوی کا قریبی ساتھی ہے۔ یہ ابو عمر الکردی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق اس شخص پر 32 کار بم حملوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ یہ اعلان وزیر اعظم ایاد علاوی کے پارٹی آفس پر ایک خودکش بم حملے کے چند گھنٹوں بعد جاری کیا گیا ہے تاہم دھماکے کے وقت علاوی دفتر میں موجود نہیں تھے۔

عراق میں تیس جنوری کو ہونے والے انتخابات سے صرف چھ روز قبل بغداد کے انتہائی حساس علاقےگرین زون کے قریب کیے گئے اس حملے میں کم از کم دس افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پیر کی صبح ایک خود کش حملہ آور نے بارود سے بھری کار کو ایک پولیس چوکی سے ٹکرا دیا۔ اسی چیک پوسٹ کو اس ماہ کے شروع میں بھی ایک کار بم دھماکے سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس کار بم دھماکے کی ذمہ داری ابو مصعب الزرقاوی نے قبول کر لی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ زرقاوی نے انتخابات کو درہم برہم کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔

انٹرنیٹ پر جاری کیے گئے ایک آڈیو پیغام میں بظاہر زرقاوی نے سنی مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ انتخابات کے خلاف نبرد آزما ہوجائیں۔

عراق کے لیے امریکی سفیر جان نیگروپونٹے نے اتوار کو کہا تھا کہ اس بات کو یقینی بنانے کی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں کہ عراقی ووٹنگ میں حصہ لے سکیں البتہ انہوں نے تسلیم کیا کہ بعض ایسے علاقے موجود ہیں جہاں انتخابات کے سلسلے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

عراق کی عبوری حکومت نے ووٹروں کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے جن میں کرفیو کے اوقات میں اضافہ اور ملکی سرحدوں کو تین روز تک بند رکھنا شامل ہے۔

بغداد میں موجود بی بی سی کی کیرولائن ہاؤلی کا کہنا ہے کہ علاقے میں جاری تشدد کے باعث انتخابی تیاریاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

سرکاری بیان کے مطابق الکردی کو پندرہ جنوری کو بغداد سے گرفتار کیا گیا تھا۔

دریں اثناء ایاد علاوی نے اپنے وزیر دفاع حاظم الشالان اور عراقی نیشنل کانگریس احمد چلابی کے درمیان تنازع سے حکومت کو دور رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ چلابی کو گرفتار کرنے کی وزیر دفاع کی دھمکی نہایت قابل افسوس ہے اور حکومت ایسا نہیں چاہتی۔

روبوٹ فوجیامریکی مشینی فوجی
عراق میں روبوٹ فوجی بھیجنے پر غور
’امن پر رضامند‘
اسرائیل کےمطابق شدت پسند کارروائی روکنے پررضامند ہوگئے ہیں۔
گولیوں کی زد میں
عراقی خاندان پرامریکی فائرنگ: تصاویر میں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد