’مکمل حفاظتی انتظامات ناممکن‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے عبوری وزیر اعظم ایاد علاوی نے اعتراف کیا ہے کہ اِس ماہ کے آخر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لیے مکمل حفاظتی انتظامات مہیا کرنا ممکن نہیں ہے۔ انتخابات کے قریب مزید پرتشدد واقعات سے نمپٹنے کے لئے ہسپتالوں نے اضافی عملے اور سامان کا انتظام کرلیا ہے۔ عراق کی عبوری حکومت کے سربراہ پہلے کہ چکے ہیں کہ جن علاقوں میں تشدد کی کارروائیاں زیادہ ہو رہی ہیں وہاں انتخابات محدود پیمانے پر ہوں گے۔ کل بغداد میں دو خود کش بم حملوں میں بیس افراد ہلاک ہونے کے علاوہ بغداد کے جنوب میں واقع یوسفیہ میں شادی کی ایک تقریب پر ہونے والے بم حملے میں کئی ہلاکتوں کا خدشہ ہے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شدت پسند عراق میں شیعہ اور سنی کے درمیان موجودہ تفریق کو مزید بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیر انصاف ملک دوحان الحسن نے کہا ہے کہ عراق میں شیعہ اور سنی آبادی کے درمیان اتحاد کے بغیر امن قائم ہونا ناممکن ہے۔ وزیر انصاف نے کہا کہ عراقی شیعوں کو اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ وہ ایک سنی عرب علاقے میں رہتے ہیں اور اگر انہوں نے ابدی اکثریت کے زور پر اقتدار پر قبضہ کرنا چاہا تو عرب عراق کے سنی مسلمانوں کی مدد کو آئیں گے۔ تیس جنوری کو عراق میں امریکی سرپرستی میں عام انتخابات ہو رہے ہیں لیکن ان سے قبل عراق میں شیعہ مسلمانوں پر دھماکوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ادھر شیعہ مسلمانوں کے رہنما آیت اللہ علی سیستانی نے اپنے مقلدین پر زور دیا ہے کہ وہ جنوری کے آخر میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لیں۔ تاہم بعض سنی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||