عراق: خودکش بم حملے، 30 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں چار مختلف خود کش کار بم حملوں میں تین برطانوی شہریوں اور ایک امریکی شہری سمیت تیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد عراقی فوجیوں کی ہے۔ پہلا دھماکہ عبوری وزیر اعظم ایاد علاوی کی پارٹی کے بغداد میں واقع ہیڈ کواٹر کے قریب ہوا۔ جس میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس دھماکے میں تیس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق ایک خود کش حملہ آور نے ایاد علاوی کے دفتر سے چند سو گز کے فاصلے پر ایک چوکی سے گزرنے کی کوشش کی جس میں اس کی کار دھماکے سے پھٹ گئی۔ دھماکے کے وقت وزیر اعظم ایاد علاوی عمارت میں موجود تھے۔ وزیر اعظم ایاد علاوی کی جماعت عراقی نیشنل ایکارڈ جنوری کی تیس تاریخ کو ہونے والے انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں کی فہرست کا اعلان کرنے والی تھی جب پارٹی کے دفتر کے سامنے یہ کار بم دھماکہ ہوا۔ دوسرا دھماکہ بلاد شہر میں ہوا جو بغداد کے شمال میں اسی کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس دھماکے میں عراق نیشنل گارڈّ ز کے چار اہلکار ہلاک ہو گئے۔ ایک اور دھماکہ بغداد کے مرکز میں قائم ایک فوجی چوکی پر ہوا ۔ اس کے علاوہ ایک دھماکہ تکرت میں ہوا۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ دھماکے بظاہر عراق میں تیس جنوری کو ہونے والے انتخابات سے پہلے تشدد کی لہر کا حصہ ہیں۔ اتوار کو بغداد کے شمال میں عراق فوجیوں کو لیے جانے والی بس پر کار بم حملے میں انیس فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||