BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 January, 2005, 23:58 GMT 04:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: کرفیو نافذ،ائرپورٹ بند
عراق سکیورٹی اہلکار
عراق میں انتخاب والے دن ملک کے کئی علاقوں میں کرفیو نافذ ہو گا
عراق میں عبوری حکومت نے ملک میں تیس جنوری کو ہونے والے انتخابات کو پرامن رکھنے کے لیے ملک کے کئی علاقوں میں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

عراق کے وزیر داخلہ فلاح الناقب انتخابات کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کا اعلان کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بغداد آئرپورٹ کو دو روز کے لیے بند کر دیا جائے گا اور ملک کے کئی علاقوں میں کرفیو نافذ ہوگا۔

ٹریفک اور راہ گیروں کی آمد و رفت بہت کم کر دی جائے گی ۔ حکومت نے پہلے ہی یہ اعلان کر دیا تھا کہ عراق کی تمام سرحدیں الیکشن کے دنوں بند کر دی جائیں گی۔

حکومت نے یہ سکیورٹی اقدامات اس خدشے کے تحت کیے ہیں کہ مزاحمت کار تیس جنوری کو پولنگ کے دوران تخریب کاری کی کوشش کریں گے۔

ادھر عراق میں اقوام متحدہ کے انتخابی امور کے مشیر کارلوز والینزویلا نے کہا ہے کہ اگر یہ حفاظتی اقدامات کامیاب رہے تو امکان ہے کہ انتخابات خیریت سے ہو جائیں گے اور لوگ ان کے نتائج قبول کر لیں گے۔

عراق کے عبوری وزیراعظم ایاد علاوی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ تیس جنوری کو منعقد ہونے والے انتخابات کے لیے مکمل سکیورٹی فراہم کرنا ناممکن ہے تاہم سکیورٹی سروسز مزاحمت کاروں کے چیلنج کا سامنا کریں گے۔

یہ بات انہوں نے دارالحکومت بغداد میں جمعہ کے روز ایک شیعہ مسجد پر ہونے والے دو خودکش حملوں کے بعد اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہی تھی۔ ان حملوں میں بیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ایاد علاوی نے کہا کہ انتخابات منعقد کرانے کے لئے سکیورٹی کے جو انتظامات کیے جارہے ہیں وہ مزاحمت کاروں کے تمام حملوں کو روکنے کے لئے کافی نہیں ہیں۔

علاوی نے، ایک ٹی وی فون اِن پروگرام میں عراقیوں کے سوالات کا جواب دے رہے تھے، کہا کہ سکیورٹی فراہم کرنے کا ’منصوبہ قاتلانہ حملے روکنے کے لیے کافی نہیں ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ مزاحمت کار ’سیاسی عمل کو ناکام بنانے کی کوشش‘ کررہے ہیں۔

دوسری جانب بیرون مللک رہنے والے عراقیوں نے عراق کے انتخابات کسی زیادہ جذبے کا مظاہرہ نہیں کیا ہے اور بہت ہی کم لوگوں نے اپنے آپ کو ووٹر رجسٹر کرایا ہے۔

بیرون ملک عراق باشندوں کی ووٹر لسٹ تیار کرنے والی تنظیم نے بتایا ہے کہ اب تک صرف صرف ڈیڑھ لاکھ عراقیوں نے اپنا اندراج کرایا ہے۔

تنظیم کا اندازہ تھا کہ اندراج کرانے والوں کی تعداد دس لاکھ کے قریب ہوگی۔ تنظیم نے بیرون ملک عراقیوں کے اندارج کی آخری تاریخ میں دو دن کی توسیع کر دی ہے۔

بغداد میں بی بی سی کی نامہ نگار کیرولائن ہاؤلی کا کہنا ہے کہ عراقی انتخابات کے ہر پہلوؤں پر تشدد کا سایہ نمایاں ہے۔ کئی امیدوار مارے گئے ہیں اور متعدد کو ہلاک کرنے کی دھمکیاں ملی ہیں۔ جبکہ امیدوار انتخابی مہم ووٹروں کے دروازوں تک نہیں لے جارہے ہیں۔

عراق کے شیعہ مذہبی رہنما آیت اللہ علی سیستانی نے اپنے پیروکاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ لیں جبکہ سنی مسلم تنظیمیں انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کررہی ہیں۔ عراق کے اٹھارہ صوبوں میں انتخابات تیس جنوری کو متوقع ہیں لیکن چار صوبوں میں تشدد حکومت کے کنٹرول سے باہر ہے۔

جمعرات کو اپنی ویب سائٹ پر شائع کردہ ایک بیان میں عراق میں القاعدہ کے سرگرم لیڈر ابو مصعب الزرقاوی نے شیعہ برادری پر فلوجہ میں آیت اللہ علی سیستانی کے ’آشیرباد سے‘ سنی مساجد پر حملوں کا الزام لگایا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج کے خلاف لڑائی ’مہینوں اور سالوں‘ تک چل سکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد