 |  پچاس برس پہلے کے عراق میں جمہوریت کے نام پر جو نظام تھااسکی ڈور برطانیہ کے ہاتھ میں تھی۔ |
کہا یہ جارہا ہے کہ عراق میں پچاس برس بعد پہلی دفعہ ایک آدمی ایک ووٹ کی بنیاد پر آزادانہ پارلیمانی انتخابات منعقد ہوئے ہیں۔اور یہ انتخابات صدام دور کے انتخاب سے مختلف ہیں جب ریس میں صرف ایک ہی گھوڑے کو دوڑنے کی اجازت تھی اور بعث پارٹی کے علاوہ کسی اور تنظیم کی رکنیت کا مطلب سزائے موت تھا۔چنانچہ موجودہ انتخابات کا مطلب یہ ہے کہ عراقیوں کو پچاس برس بعد انکی غصب شدہ جمہوری امانت لوٹا دی جائے۔ آئیے دیکھیں کہ پچاس برس پہلے عراق میں کیسی جمہوری فضا تھی۔ عالمی نقشے پر انیس سو اکیس سے پہلے عراق نام کے ملک کا کوئی وجود نہیں تھا۔یہ ملک برطانیہ نے پہلی عالمی جنگ کے بعد عثمانی ترکوں سے چھینے گئے تین صوبوں ولائتِ موصل، ولائتِ بغداد اور ولائتِ موصل کو یکجا کرکے تشکیل دیا تھا۔نئے ملک کی حکومت برطانیہ نے کسی مقامی کے سپرد کرنا مناسب نہ سمجھا بلکہ حجاز کے حکمراں شریف حسین کے بیٹے فیصل کو نئے ملک کا پہلا بادشاہ بنایا گیا۔فیصل نے بادشاہ بننے سے پہلے عراق کی سرزمین پر کبھی قدم نہیں رکھا تھا۔ عراقی عوام کو جمہوریت کا پہلا سبق انیس سو بائیس میں ایک ریفرینڈم کے نام پر پڑھایا گیا۔جس میں یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا آپ کو فیصل کی بادشاہت منظور ہے؟ چھیانوے فیصد نے جواب دیا ہاں منظور ہے۔یہ چھیانوے فیصد ووٹر کوئی عام عراقی نہیں تھے بلکہ قبائیلی سردار اور صاحبِ جائداد لوگ تھے۔ جب انیس سو بتیس میں عراق کو باقاعدہ آئینی آزادی مل گئی تو اسکے بعد بھی عملی صورت یہ تھی کہ بادشاہ کے اختیارات ایک نمائشی وزیرِ اعظم کے توسط سے بغداد میں مقیم برطانوی سفیر کی ہدایات کے مطابق استعمال ہوتے تھے۔ ایک برس بعد فیصل اول کا انتقال ہوگیا اور اسکے ولی عہد غازی کو نیا بادشاہ بنایا گیا۔لیکن برطانویوں کے اندازے کے برعکس غازی قوم پرست نکلا۔اس نے نہ صرف برٹش پٹرولیم کو پورے عراق میں تیل کی تلاش کا واحد ٹھیکیدار بنانے کی کوششوں کی مزاحمت کی بلکہ برطانوی فوجی انخلا کا مطالبہ کیا۔پہلے تو اسکے ایک وزیراعظم کا تختہ ایک کرد عراقی جنرل بکر صدقی سے الٹوایا گیا اسکے بعد خود شاہ غازی بھی انیس سو انتالیس میں سڑک کے ایک پراسرار حادثے میں ہلاک ہو گیا۔اسکی جگہ اسکے بھائی عبداللہ کو تخت پر بٹھایا گیا۔لیکن ایک ہی برس بعد اسکے وزیرِ اعظم رشید علی گیلانی نے دوسری عالمگیر جنگ کے آغاز پر نازی جرمنی کی حمائت کا اعلان کردیا۔برطانوی ٹینک بغداد میں داخل ہوئے اور گیلانی حکومت کو معزول کردیا گیا۔ اگلے اٹھارہ برس تک بادشاہ فیصل دوم اور اسکے برطانوی حمائت یافتہ وزیرِ اعظم نوری السعید کے دور میں برطانیہ کو عراقی حکومت کی جانب سے کوئی خاص پریشانی نہ رہی بلکہ عراق سرد جنگ کے اس ابتدائی زمانے میں سوو ئیت کیمونزم کے ممکنہ پھیلاؤ کے خلاف امریکہ اور برطانیہ کا علاقائی فوجی معاہدے بغداد پیکٹ کے زریعے وفادار حلیف رہا۔جب قوم پرست فوجی افسروں کے ایک گروہ نے انیس سو اٹھاون میں شاہ فیصل دوم اور وزیرِ اعظم نوری السعید کو قتل کرکے کرنل کریم قاسم کی قیادت میں اقتدار پر قبضہ کرکے عراق کو بغداد پیکٹ سے نکال لیا تو عراق سے اس سویلین جمہوری نظام کا خاتمہ ہوگیا جو برطانیہ نے اس ملک کے لئے پسند کیا تھا۔پانچ برس بعد سی آئی اے کی تائید سے بعث پارٹی نے کریم قاسم کو قتل کرکے یک جماعتی آمریت کی باضابطہ سیاسی بنیاد رکھ دی۔ پچاس برس پہلے کے عراق میں جمہوریت کے نام پر جو نظام تھااسکی ڈور برطانیہ کے ہاتھ میں تھی۔آج جس جمہوری نظام کو عراق میں نافذ کیا جارھا ہے اسکی نگرانی بغداد کے قلعہ بند گرین زون میں قائم سینتیس سو کے لگ بھگ عملے پر مشتمل امریکی سفارتخانے کے زمے ہے۔ |