چناؤ کا سال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چارلس ڈارون اپنی آنکھوں پر دوربین لگائے ساحل پر نظر جمائے ہوئے ہے جہاں اسے درختوں کے درمیان کچھ حرکت سی نظر آ رہی ہے۔ اسے دنیا کے سفر پر نکلے ایک سال ہو چکا ہے۔ گزشتہ برس ستائس دسمبر کو ہی اس کے سمندری جہاز بیگل نے برطانیہ کا ساحل چھوڑا تھا۔ اس ایک سال میں ڈارون کی دنیا ہی بدل گئی ہے جس میں نہ صرف اس کی اپنی شکل و صورت بلکہ سوچنے کا انداز بھی شامل ہے۔ سوچ میں تو ایسا تلاطم ہے کہ وہ اِسے اپنے آپ سے بھی چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف تو اس کی سوچ مذہب سے برسرِپیکار ہے اور دوسری طرف انسانی ارتقاء اسے نئی منزلوں کی نوید دے رہا ہے جسے تسلیم کرنا اس کے لیے کافی مشکل ہو رہا ہے۔ وہ نیچرل سیلیکشن یعنی قدرتی چناؤ کے نظریے کی طرف کھنچا چلا جا رہا ہے اور دنیا میں انسانوں کے ارتقاء اور بقا کو اسی کا ہی نتیجہ سمجھنا شروع ہو گیا ہے۔ اس نے ملکوں کی ترقی اور تباہی کو بھی اسی کا حصہ مان لیا ہے۔ ڈارون اپنی ڈائیری میں، جو بعد میں کئی کتابوں کی شکل میں ابھری، لکھتا ہے ’اس بات میں بظاہر کافی سچائی نظر آتی ہے کہ امریکہ کی زبردست ترقی اور اس کے باسیوں کا کردار نیچرل سیلیکشن (قدرتی چناؤ) کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ گزشتہ دس بارہ نسلوں سے یورپ کے سبھی علاقوں سے زیادہ توانا، بے چین، اور نڈر لوگ اس زبردست ملک میں ہجرت کر کے آئے اور یہاں بہت کامیاب رہے‘۔ امریکہ کی طاقت کے اصل راز پر اس کا ایمان پختہ ہو گیا ہے اور اسے کامل یقین ہے کہ یہی قدرتی عمل ہے۔ ڈارون اب اس بڑے جزیرے پر اتر چکا ہے۔ جزیرہ زندگی سے بھر پور ہے۔ کئی طرح کی مخلوق اس کے سامنے ادھر ادھر دوڑ رہی ہے۔ بہت سی ایسی بھی ہے جو آنکھ سے اوجھل ہے۔ ’ان کی زندگی کس طرح کے مدوجزر سے گزر رہی ہو گی یہ میں نہیں جانتا اور شاید کبھی نہ جان پاؤں‘، ڈارون اپنی ڈائیری میں ایک جملہ لکھ کر اسے بند کر دیتا ہے۔
آج صبح ہی سے ڈارون کی توجہ ایک کیڑے پر مرکوز ہے۔ یہ چھوٹا سا کیڑا دراصل کئی دنوں سے اس کے سامنے آ رہا تھا لیکن دوسری بظاہر زیادہ ضروری چیزیں ڈارون کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لیتی تھیں اور کرکٹ نامی یہ کیڑا دوبارہ کسی ’فیلڈ‘ میں گم ہو جاتا تھا۔ لیکن کرکٹ آج شاید ڈارون کے لیے کوئی پیغام لے کر آیا ہے۔ شاید امن کا پیغام۔ جیسے ’آؤ کرکٹ اور ڈارون دوست بن جائیں‘۔ ڈارون سارا دن کرکٹ کے ساتھ رہا اور سوچتا رہا کہ کرکٹ سے ارتقاء کیسے ممکن ہے۔ ارتقاء کا نظریہ ڈارون سے پہلے بھی کئی لوگوں نے پیش کیا تھا۔ اور کسی کی کیا بات کریں ڈارون کے دادا ایراسمس ڈارون بھی ارتقاء کے متعلق کافی کچھ لکھ گئے تھے۔ ایراسمس کئی خصوصیات کے حامل تھے۔ وہ ڈاکٹر تھے، شاعر تھے اور ایک مشہور فلاسفر بھی۔ ان کے ارتقاء کے نظریہ کو پہلے ہی کافی پذیرائی مل چکی تھی۔ ڈارون میں اپنے دادا کی کئی خصوصیات تھیں لیکن وہ ڈاکٹر اور شاعر نہیں تھا۔ ڈاکٹری سے اسے چڑھ تھی اور شاعری کو اس سے۔ ڈارون مشہور سائنسدان اور فلاسفر تھامس مالتھس کا کام Essay on the Principle of Population پہلے ہی پڑھ چکا تھا۔ وہ اس سے کافی متاثر بھی تھا۔ مالتھس کے مطابق آبادی کو بڑھنے سے دوسرے بیرونی عناصر روکتے ہیں اور جو اپنے آپ کو ان سے بچا نہیں سکتا مر جاتا ہے۔ ان عناصر میں قدرتی آفات اور دوسرے بڑے جانوروں کی خوراک بننا بھی شامل ہے۔ ڈارون دیکھ رہا ہے کہ اس سال اس کا تجربہ یہی کہتا ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی نظر دوڑائیں صرف وہ ہی زندہ ہیں جو کہ فِٹ ہیں۔ جو آگے بڑھنے کی دوڑ میں ہار گئے وہ ختم ہو گئے۔ پورے سال میں اس کے سامنے جتنی بھی مثالیں ہیں وہ ان ہی کی ہیں جنہوں نے زندہ رہنے کا فن جان لیا۔ جنہوں نے یا تو اپنے رنگ بدل لیے یا پھر مدِ مقابل کو بچھاڑ دیا۔ ’ارتقاء کا عمل جاری ہے اور اگرچہ یہ آہستہ آہستہ آگے بڑھتا رہتا ہے پر یہ کبھی بھی نہیں رکتا‘، ڈارون آج کی تاریخ کے ساتھ ڈائیری میں اپنا نظریہ درج کرتا ہے۔ ایک دن اور گزر جاتا ہے۔ رات بھر جو چیز ڈارون کے دماغ پر چھائی رہی وہ تھی چناؤ کا بھید۔ کس طرح سپیشی یا نوع میں چناؤ کا عمل ہوتا ہے۔ قدرت صرف اس کا ہی چناؤ کرتی ہے جو سب سے زیادہ اپنے آپ کو اس کا مستحق پیش کرتا ہے۔ یعنی کامیاب وہی ہے جس نے یہ بھید جان لیا کہ زندہ کس طرح رہنا ہے یا آگے کس طرح جانا ہے۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ کیا نوع کو اس لیے اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے کہ اس میں سے جو اس قابل ہو گا کہ بچ سکے، بچ جائے اور باقی قدرتی عمل کے ذریعے ختم ہو جائیں۔ غربت، خوراک اور بیماری کے خلاف جن افراد کی مدافعت زیادہ ہو گی وہ بچ جائیں گے اور دوسرے خود بخود ختم۔ یہ ایک پریشان کن سوچ ہے۔ ڈارون اس سوال کو دماغ میں رکھے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ ڈارون کی پیدائش سے ٹھیک 602 سال پہلے تاجکستان میں ایک شخص پیدا ہوا تھا۔ نام تھا اس کا جلال الدین اور مشہور وہ مولانا رومی کے نام سے ہوا۔ وہ صوفی تھا۔ اس کی لکھی ہوئی مثنویاں آج تک بڑے احترام سے پڑھی جاتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ وہ بھی ارتقاء اور چناؤ کا نظریہ اپنی مثنویوں کے ذریعے پیش کر چکا ہے۔ ڈارون اس کی ایک مثنوی ’ابلتے پانی میں مٹر کا دانا‘ نکالتا ہے۔ ’برتن میں مٹر کے دانے کی طرف دیکھو، کس طرح وہ آگ کے آگے مجبور نظر آ کر اوپر کی طرف چھلانگ لگا رہا ہے/ ابلنے کے وقت مٹر کا دانہ برتن سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے اور ایسا نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتا ہے/ کہتا ہے کہ تم کیوں مجھے آگ سے مار رہی ہو؟ جب سے تم نے مجھے خریدا ہے تم مجھے اوپر نیچے پھینک رہی ہو/ گھر کی مالکن (برتن میں) کفگیر ہلاتی جا رہی ہے اور کہتی ہے ’نہ‘، مرضی سے ابلو، آگ سے دور نہ بھاگو/ میں تمہیں اس لیے نہیں ابال رہی کہ میں تم سے نفرت کرتی ہوں/ (بلکہ یہ اس لیے کر رہی ہوں) کہ تم میں ذائقہ اور لذت آ جائے/ تم بعد میں خوراک بن جاؤ گے اور اس کے بعد اہم روح میں شامل ہو جاؤ گے/ تمہاری یہ آزمائش تمہارے طرف کسی نفرت کی وجہ سے نہیں ہو رہی‘۔ ڈارون مٹر کے دانے یا ’پی‘ کی آزمائش پر رومی کی مثنوی پڑھتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ چناؤ بھی تو ایک طرح کی آزمائش ہی ہے۔ ان کے لیے بھی جن کا چناؤ ہوتا ہے اور ان کے لیے بھی جو یہ کرتے ہیں۔ ارتقاء کا عمل کسی نہ کسی شکل میں جاری رہتا ہے۔ ڈارون ایک مذہبی آدمی ہے۔ اس لیے وہ اپنی نئی تحقیق اور مذہب میں تقرار کی وجہ سے پریشان ہے۔ اس کی تحقیق کے مطابق انسان سمیت دنیا کی ہر سپیشی کے آباؤ اجداد ایک ہی تھے۔ اس کا مذہب یہ نہیں کہتا۔ ارتقاء اور بقاء کی جنگ جو پورے کرۂ ارض پر جاری ہے اس کے لیے پریشان کن ہے۔ ڈارون اپنی ڈائیری کے ایک صفحے پر تیزی سے کچھ لکھتا ہے اور پھر اسے کاٹ دیتا ہے۔ یہ اس کی نئی سوچ سے شاید مطابقت نہیں رکھتا۔ ڈارون اس کٹے ہوئے فقرے کو دوبارہ پڑھتا ہے۔ ’میں ارتقاء کے حسیں چنگلوں میں پھنسا ہوں، میں بیگناہ ہوں‘۔ اور ایک مرتبہ پھر وہ سب خیال چھوڑ کر اپنی تحقیق کے متعلق لکھنا شروع کر دیتا ہے۔ ’یہ چناؤ کا سال تھا‘۔ ڈارون اپنی ڈائیری میں یہ آخری جملہ درج کر کے اسے بند کر دیتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||