بش جیتیں گے، جواری جانتے تھے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی الیکشن کے نتائج کے بارے میں اگر کسی کی پیشین گوئی صحیح نکلی ہے تو وہ ہیں جواری۔ امریکی الیکشن کے نتائج پر لگائی گئی شرطوں کے سرسری جائزے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صدر جارج بش جواریوں کی نظر میں شروع سے ہی پسندیدہ رہے ہیں۔ آیووا الیکٹرونک مارکیٹ پر جو کہ آن لائن جواِخانے کے طور پر آیووا یونیورسٹی کے تحت چلائی جاتی ہے صدر بش کو دوبارہ منتخب ہونے کا اکیاون اعشاریہ دو فیصد موقع دیا گیا تھا۔ اور یہ اعداد ان پاپولر ووٹوں کی تعداد کے قریب ہیں جو صدر بش نے الیکشن میں حاصل کیے۔ درحقیقت الیکٹرونک جوئے میں فٹبال میچوں سے لے کر تیل کی قیمتوں تک اتنے صحیح اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کے اسے پیسہ بنانے کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے بھی استعمال کیا جائے۔ آئی ای ایم اور ٹریڈ سپورٹس جیسی جوئے کی ویب سائٹوں پر شرطیں لگانے والوں کا جھکاؤ ہمیشہ سے جارج بش کی طرف رہا: ان کے حساب میں عوامی سروے رپورٹوں کے بر خلاف جان کیری کو کبھی بھی برتری حاصل نہیں رہی۔ اور ان ویب سائٹوں کو چلانے والوں کا کہنا ہے کہ ان پر لگائے گئے اندازے اکثر صحیح ثابت ہوتے ہیں۔ٹریڈ سپورٹس کا دعوی ہے کہ ابتدائی انتخاباتی نتائج میں ان کا ہراندازہ درست ثابت ہوا۔ ناقدین آئی ای ایم کے اس دعوے سے متفق نظر نہیں آتے اور ان کا کہنا ہے کہ سن دو ہزار کے صدارتی انتخابات اور دو ہزار دو کے کانگرس انتخابات میں ان کے اندازے صحیح نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسی مارکیٹ جو ہمیشہ اندازوں پر ہی چلتی ہو اسے اکثر صحیح اندازے ہی لگانے چاہییں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||