وردی اتار دیتے تو اچھا ہوتا: امریکہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنرل مشرف کا فوجی بغاوت کے ذریعے حکومت پر قبضہ کرنا بری بات تھی اور اب بھی اگر جنرل مشرف وردی اتار دیں تو یہ اچھی بات ہو گی لیکن اس کا فیصلہ پاکستان اور جنرل مشرف کو خود کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان رچرڈ باؤچر نے اس وقت کیا جب ان سے پاکستان میں وردی کا بل پاس ہونے پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کو بارہا کہا ہے کہ یہ پاکستان کی اپنے مفاد میں ہے کہ وہ جمہوریت کا عمل جاری رکھے_ ترجمان نے کہا کہ امریکہ کو امید ہے کہ جمہوریت کا عمل جاری رکھے گا کیونکہ اس کے جدید اور معتدل ریاست بننے کی اشد ضروری ہے۔ ’ہم پاکستان پر زور دے رہے ہیں کہ وہ مکمل اور پائیدار جمہوریت قائم کرنے کی طرف سفر جاری رکھے اور 2007 میں کثیر الپارٹی انتخابات کروائے_ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے الیکشن بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوں‘ انہوں نے کہا کہ عدلیہ اور پارلیمنٹ کو مضبوط کیا جائے اور سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستا نی جمہوریت صرف پرویز مشرف کی ذات کی مرہون منت ہی اور کیا اس کے علاہ کوئی جمہوریت بچانے والا نہیں ہے تو انہوں نے جواب دینے سے احتراز کرتے ہوئے کہا کہ جمہریت کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ کیا صدر بش نے جنرل مشرف کے ساتھ نیویارک کی آخری ملاقات میں وردی اتارنے کی لیے کہا تھا تو ترجمان نے کہا کہ ان کو یہ تو علم نہیں ہے لیکن سیکرٹری آف سٹیٹ جنرل کولن پاول پاکستان کے وزیر خارجہ سے یہ بات کہتے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ جنرل مشرف کی تعریف کرتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ پاکستان کو جمہوری عمل جاری رکھنا چاہیے لیکن اس کا فیصلہ پاکستان اور جنرل مشرف کو خود کرنا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||