دو عہدے رکھنے کے بارے میں بِل منظور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراطلاعات شیخ رشید احمد نے بتایا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے دو عہدے رکھنے کے متعلق بل پر قائم مقام صدر محمد میاں سومرو نے دستخط کردیئے ہیں۔ یہ قانون آئندہ ماہ کی اکتیس تاریخ سے نافذالعمل ہوگا۔ حکومت کے مطابق اب جنرل پرویز مشرف اکتیس دسمبر کے بعد صدر مملکت کے ساتھ آرمی چیف کا عہدہ رکھ سکیں گے۔ حزبِ مخالف کے دونوں بڑے اتحادوں متحدہ مجلس عمل اور اتحاد برائے بحالی جمہوریت ’اے آر ڈی، نے اس بل کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے صدر کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ صدر کے دو عہدوں کا بل پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے پہلی ہی منظور ہو چکا ہے۔ بِل کی منظوری کے وقت حزب مخالف نے ’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگائے تھے اور سخت احتجاج کیا تھا۔ اس بِل کا اطلاق صدر مشرف پر ہوتا ہے۔ اس پر ان کی بجائے قائم مقام صدر محمد میاں سومرو نے دستخط کیے ہیں جو کہ ایوان بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین بھی ہیں۔ گزشتہ سال کے آخر میں حکومت اور چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے درمیان ہونے والے ایک سمجھوتے کے نتیجے میں صدر مشرف کو رواں سال اکتیس دسمبر تک فوجی وردی میں رہنے کا آئینی اختیار اس شرط پر دیا گیا تھا کہ وہ مقررہ مدت تک فوجی وردی اتار دیں گے۔ اس معاہدے کے بعد صدر نے سرکاری ٹی وی چینل پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے خود بھی اعلان کیا تھا کہ وہ آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں گے لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ’قومی مفاد‘ کے تحت یہ ضروری ہے کہ صدر دونوں عہدے اپنے پاس رکھیں۔ حزب مخالف کے رہنما اعتزاز احسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قائم مقام صدر سے دستخط اس لیے کرائے گئے کیونکہ خود جنرل پرویز مشرف کو بھی معلوم ہے کہ یہ سب کچھ غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل میں جو اب قانون بن چکا ہے بہت بڑا سکم یہ ہے کہ صدر کو آرمی چیف کا عہدہ رکھنے کے بارے میں شِق میں ترمیم کی گئی ہے لیکن آرمی چیف کے متعلق شق میں ترمیم نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق آرمی چیف پر آئین میں دوسرا عہدہ رکھنے کی قدغن بدستور موجود ہے اور اس لحاظ سے دو عہدے رکھنا آئین کی خلاف ورزی ہوگا۔ حکومت کا موقف ہے کہ پارلیمان نے اکثریت رائے سے یہ بل منظور کیا ہے جسے سب کو ماننا پڑے گا۔ پاکستان کے وزیراطلاعات شیخ رشید احمد نے جو ان دنوں لندن میں ہیں، بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے حزب مخالف کے موقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ قائم مقام صدر تمام امور نمٹانے کے مجاز ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||