مشرف وردی: رابطہ مہم شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ مجلس عمل نے صدر جنرل پرویز مشرف کو وردی اتارنے پر مجبور کرنے کے لیے رابطہ مہم شروع کر دی ہے اور اپنا پہلا جلسہ نشتر پارک کراچی میں کیا ہے۔ جلسہ میں متحدہ مجلس عمل کے تمام مرکزی رہنماؤں ، قاضی حیسن احمد، مولانا فضل الرحمن، حافظ حیسن احمد نے شرکت کی۔ ہزاروں تعداد میں لوگوں نے جلسے میں صدر پرویز مشرف اور امریکہ کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین’ گو مشرف گو‘ اور ’امریکہ مردہ باد‘ اور ’جو امریکہ کا یار وہ غدار ہے‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ مجلس عمل اور سندھ کی صوبائی حکومت نے جلسے کی کامیابی کے بارے میں متضاد دعوے کیے۔ متحدہ مجلس عمل نے کہا کہ اتنی تعداد میں شرکت کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ صدر جنرل مشرف کی پالیسوں سے ناخوش ہیں۔ تاہم سندھ کے وزیر اعلی ارباب عبدالرحیم اور مسلم لیگ کے سکیرٹری مشاہد حسین نے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں محض چند ہزار لوگوں کا اجتماع اس بات کی دلیل ہے کہ لوگ حکومت کے خلاف نہیں ہیں۔ قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ وہ وردی کے خلاف نہیں ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ وردی حقدار شخص کو پہننی چاہیے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا اگر جنرل پرویز مشرف نے دسمبر 31 تک وردی نہ اتاری تو تحریک چلے گی جس کے پروگرام اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ پولیس نے نشتر پارک کو جانے والے تمام راستے بند کر دیے تھے۔ جلسہ مکمل طور پر پرامن رہا۔ متحدہ مجلس عمل کے رہنما حافظ حسین احمد حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صدر پرویز مشرف فوجی وردی نہ اتار کر قوم سے وعدہ خلافی کر رہے اور ایم ایم اے انہیں ایسا نہیں کرنے دے گی۔ ادھر لاہور میں جماعت اسلامی کی ایک ذیلی تنظیم شباب ملی نے صدر جنرل پرویز مشرف کی وردی کے بارے میں جس ریفرنڈم کا اعلان کیا تھا اس کے نتائج کا اعلان اتوار کی شام کو کیا گیا۔ ریفرنڈم کے چیئرمین اور لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر حافظ عبدالرحمن انصاری نے کہا کہ نناوے فیصد لوگوں نے صدر مشرف کی فوجی وردی کے خلاف ووٹ دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||