BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 September, 2004, 15:16 GMT 20:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر وردی نہیں اتاریں گے: رشید

مشرف
جنرل پرویز مشرف صدارت اور بری فوج کے سربراہ کا عہدہ دونوں ساتھ رکھنا چاہتے ہیں
پاکستان کے وزیراطلاعات شیخ رشید احمد نے اعلان کیا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے فوجی وردی نہ اتارنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور وہ بدستور صدر مملکت اور آرمی چیف کے عہدوں پر رہیں گے۔

یہ اعلان انہوں نے بدھ کی شام وزیراعظم شوکت عزیز کی صدارت میں کابینہ کے پہلے اجلاس میں کیے جانے والے فیصلوں کے بارے میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ سترویں آئینی ترمیم کے مطابق اکتیس دسمبر دو ہزار چار تک وردی اتارنا لازمی نہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس ترمیم میں یہ گنجائش بھی موجود ہے کہ سادہ اکثریت سے پارلیمینٹ سے قانون منظور کرانے کے بعد صدر دونوں عہدے ساتھ رکھ سکتے ہیں اور حکومت اس ضمن میں شریف الدین پیرزادہ اور ایس ایم ظفر سے مشاورت کے بعد فیصلہ کرے گی کہ کیا کرنا ہے۔

جب ان سے بی بی سی نے دریافت کیا کہ صدر جنرل پرویزمشرف نے قوم سے خطاب میں ایک عہدہ چھوڑنے کا جو وعدہ کیا تھا کیا وہ غلط بیانی تھا؟

تو وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس وقت کے حالات کچھ اور تھے اب حالات مختلف ہیں۔ ان کے بقول آنے والے دنوں میں ملکی معیشت اور دیگر معاملات کے متعلق صدر نے اہم فیصلے کرنے ہیں لہٰذا ان کا وردی میں رہنا ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کابینہ کے اجلاس میں ملک میں امن و امان کی صورتحال، پاک بھارت مذاکرات اور پانی کی قلت کے متعلق معاملات میں غور کیا گیا۔

وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں بھی ایک اجلاس ہوا جس میں قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں جاری کارروائی اور بلوچستان کے معاملات کے متعلق غور کیا گیا۔صدر کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر کے مطابق وزراء اعلیٰ اور گورنر سرحد بھی شریک تھے۔

جنوبی وزیرستان میں متعلقہ قبائل کے ساتھ بات چیت کے لیے گورنر سرحد اور وزیر داخلہ پر مشتمل کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ فوجی کارروائی بند نہیں ہوگی بلکہ مذاکرات اور آپریشن ساتھ ساتھ جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا صحافیوں کو فوری معلومات دینے کے لیے جنوبی وزیرستان میں میڈیا سینٹر بنایا جائے گا اور صحافیوں کو دورہ بھی کرایا جائے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ قبائلی علاقوں میں کارروائی کے متعلق میڈیا غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہا ہے اور حکومت متعلقہ میڈیا والوں سے رابطہ کر کے اپیل کرے گی کہ آئندہ وہ غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کریں۔

کابینہ کے متعلق انہوں نے بتایا کہ وزیر داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ نے ملک میں امن امان کی صورتحال، وزیر پانی و بجلی لیاقت جتوئی نے پانی کی قلت اور اس سے کاشت ہونے والے فصلوں کے متاثر ہونے جبکہ وزیر خارجہ نے پاک بھارت مذاکرات میں پیش رفت کے بارے میں کابینہ کو بریفنگ دی۔

شیخ رشید احمد نے بتایا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ تمام وزارتیں اپنے لیے احداف مقرر کریں اور ان کے حصول کی حکمت عملی بنائیں۔

انہوں نے جنوبی وزیرستان کی صورتحال کے بارے میں ایک سوال پر کہا کہ حکومت باتوں کا جواب باتوں سے اور گولی کا جواب گولی سے دے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کی گئی پیشکشیں اب بھی برقرار ہیں کہ غیر ملکی خود کو حکومت کے حوالے کریں ان کے خلاف پاکستانی قوانین کے مطابق کارروائی ہوگی۔

دریں اثناء حزب اختلاف کے اتحاد’اے آر ڈی، کے سربراہ مخدوم امین فہیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے دن سے ہی باوردی صدر کے خلاف ہیں۔ ان کے مطابق مجلس عمل نے اکتیس دسمبر تک صدر کو وردی میں رہنے کی غلط مہلت دی تھی۔ وردی نہ اتارنے کے متعلق انہوں نے کہا کہ وہ اے آر ڈی کے پلیٹ فارم سے احتجاج کریں گے اور مجلس عمل سے مل کر تحریک نہیں چلائیں گے۔

یاد رہے کہ مجلس عمل کے رہنما لیاقت بلوچ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر اکتیس دسمبر تک وردی نہیں اتاری تو وہ جنوری سے گو مشرف گو تحریک چلائیں گے۔

ملک میں کئی روز سے صدر کی وردی کا معاملہ زیر بحث تھا اور حکومتی اعلان کے بعد معاملہ واضح ہوگیا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد