دو عہدے: سینیٹ سے بھی بل منظور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’گو مشرف گو‘ کے نعروں اور حزبِ اختلاف کے احتجاج کے دوران حکومت نے پیر کے روز سینیٹ سے بھی صدر جنرل پرویز مشرف کے بیک وقت دو عہدے رکھنے کا بل منظور کرا لیا۔ قومی اسمبلی پہلے ہی اس بل کی منظوری دے چکی ہے۔اب صدر کی حیثیت میں پرویز مشرف اپنے ہی بارے میں منظور کئے گئے اس بل پر دستخط کریں گے۔ قومی اسمبلی میں اس بل کی منظوری پر حزبِ اختلاف نے احتجاج کیا تھا اور پیر کو جب سینیٹ میں بل پر بحث کی ابتدا ہوئی تب بھی اپوزیشن نے سخت احتجاج کیا۔ جب وزیر قانون وصی ظفر بل پر بولنے لگے تو حزب مخالف کے رہنما رضا ربانی نے کہا کہ وہ احتجاجی طور پر وزیر قانون کی تقریر نہیں سنیں گے اور ایوان سے باہر رہیں گے۔ وزیر قانون نے حزب مخالف پر تنقید کی تو حکومت کے حامی رکن نثار میمن نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ بل پر بات کریں اور حزب مخالف پر تنقید نہ کریں۔ جس پر وزیر قانون نے ان سے کہا کہ انہیں پتہ ہے کہ ان کے فرائض کیا ہیں۔ جب چیئرمین سینیٹ نے بل منظوری کے لیے پیش کیا اس وقت حزب مخالف کے تمام اراکین ’نو مشرف نو، گو مشرف گو، غنڈہ گردی کی سرکار نہیں چلے گی‘ اور ’گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو‘ کے نعرے لگاتے رہے جس ایوان میں شدید شور برپا ہوگیا۔ سینیٹ میں صدر کے دو عہدوں کے متعلق بل کی منظوری کے بارے میں حکومت اور حزب مخالف میں اتفاق ہوا تھا کہ پیر کے روز بل منظور ہوگا اور حزب اختلاف اپنا احتجاج کرے گی۔ سینیٹ میں پیر کو نجی کارروائی کا دن ہوتا ہے لیکن دونوں فریقین نے اتفاق رائے سے متعلقہ قواعد معطل کرکے باہمی رضامندی سے منگل کو نجی کارروائی کا دن مقرر کیا اور پیر کو حکومت نے اپنا ایجنڈا چلایا۔ حکومت کے مطابق اس بل کا مقصد جنرل پرویز مشرف کو صدر مملکت اور آرمی چیف کے دونوں عہدے ایک ساتھ رکھنے کا قانونی اختیار دینا ہے۔ اس بل پر جیسے ہی صدر مشرف دستخط کریں گے یہ’ایکٹ آف پارلیمینٹ، بن جائے گا۔ یہ قانون اکتیس دسمبر سے نافذ العمل ہوگا اور جب تک جنرل پرویز مشرف صدر کے عہدے پر رہیں گے اس وقت تک وہ فوج کا سربراہ بھی رہیں گے۔ گزشتہ سال کے آخر میں حکومت اور چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے درمیان ہونے والے ایک سمجھوتے کے نتیجے میں صدر مشرف کو رواں سال اکتیس دسمبر تک فوجی وردی میں رہنے کا آئینی اختیار اس شرط پر دیا گیا تھا کہ وہ مقررہ مدت تک فوجی وردی اتار دیں گے۔ اس معاہدے کے بعد صدر نے سرکاری ٹی وی چینل پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے خود بھی اعلان کیا تھا کہ وہ آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں گے لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ’قومی مفاد‘ کے تحت یہ ضروری ہے کہ صدر فوجی وردی پہنے رکھیں۔ حکومت کی جانب سے سمندر پار پاکستانییوں کے وزیرِ مملکت طارق عظیم نے ساٹھ اور ستر کی دہائیوں کے وہ اخبارات لہراتے ہوئے کہا کہ جب ذوالفقار علی بھٹوسویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر، بنے تھے اس وقت مارشل کی حمایت پیپلز پارٹی نے کی تھی اور کہا تھا کہ ملکی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ملکی حالات کی خاطر صدر مشرف کے دو عہدوں کا بل منظور کیا جارہا ہے۔ حکومت کے حامی رکن ایس ایم ظفر نے صدر جنرل پرویز مشرف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جب صدر مملکت نے دو عہدے رکھنے کا فیصلہ ہی نہیں کیا تو حکمران جماعت کا یہ بل قبل از وقت ہے۔ جس پر حزب مخالف نے ڈیسک بجائے۔ لیکن جب بل پر ووٹنگ ہوئی تو ایس ایم ظفر نے بھی مخالفت نہیں کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||