کیری نےہار مان لی، بش جیت گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خبررساں اداروں اے پی اور اے بی سی ٹیلی وژن کے مطابق جان کیری امریکہ کے صدراتی انتخابات میں شکست کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے صدر جارج بش کو ٹیلی فون کیا اور اپنی ہار کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے سیاسی حریف کو مبارکباد دی۔ صدر بش اور سینیٹر کیری اب سے کچھ دیر بعد بیان دیں گے۔ اس سے پہلے ملنے والی خبروں کے مطابق انتخاب کی دوڑ میں صدر جارج بش کو واضح برتری حاصل تھی اور ریپبلیکن پارٹی کی انتخابی مہم کے انچارج نے دعویٰ کیا تھا کہ جارج بش انتخاب جیت چکے ہیں۔ اب تک امریکہ کی اکاون ریاستوں میں سے اڑتالیس ریاستوں سے نتائج موصول ہو چکے ہیں جن میں جارج بش کو انتخابی کالج 254 ووٹ ملے ہیں جبکہ جان کیری 252 ووٹ لے کر قریب ترین ہیں۔ اوہایو کے علاوہ جن دوسری دو ریاستوں سے انتخابی نتائج سامنے نہیں آئے ہیں ان میں نیو میکسیکو اور آئیوا ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف اینڈی کارڈ نے ریپبلیکن حماییتوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر بش کو فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔ امریکی ریاست اوہایو سے مکمل نتائج ابھی موصول نہیں ہوئے ہیں ۔ صدر بش کی انتخابی مہم کے انچارج نے کہا ہے جارج بش کو اوہایو میں بھی فیصلہ کن برتری حاصل ہو چکی ہے جس کو اب ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ریاست اوہایو میں زیادہ ووٹنگ ہونے کی وجہ سے نتائج آنے میں تاخیر ہوئی ہے۔ اوہایو میں انتخابی تنازعہ پیدا ہونے کے امکانات بھی بڑھ گئے تھے۔ڈیموکریٹ پارٹی کے نائب صدارت کے امیدوار جان ایڈورڈ نے کہا تھا کہ وہ ایک ایک ووٹ کے لیے لڑیں گے۔ ڈیموکریٹ ووٹروں سے خطاب کرتے ہوئے جان ایڈورڈ نے کہا تھا کہ ڈیموکریٹ ووٹروں نے چار برسوں تک جیت کا انتظارکیا ہے اور وہ ایک رات اور بھی انتظار کر سکتے ہیں لیکن وہ ایک ایک ووٹ کے لیے لڑیں گے۔ جان کیری کی انتخابی مہم کے عہداداروں کا مطالبہ ہے کہ اوہایو میں تمام ’عبوری ووٹوں‘ کی پڑتال ہونا چاہیے۔ عبوری ووٹر ان کو کہا جاتا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اہل ووٹر ہیں لیکن ان کا نام ووٹر لسٹ میں موجود نہیں ہوتا۔ایسے ووٹوں کو اگر چیلنج کیا جائے تو پھر اس کی جانچ پڑتال ہونا ضروری ہوتا ہے جس پر کافی وقت لگ سکتا ہے۔ اس دفعہ امریکی انتخابات میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے میں آیا اور کئی مقامات پر ووٹنگ مقررہ وقت سے زیادہ دیر تک جاری رہی۔ ریاست فلوریڈا میں کئی پولنگ سیٹشنوں پر لمبی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں۔ اوہایو سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق بعض ووٹروں کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے آٹھ گھنٹوں سے زیادہ دیر تک قطار میں کھڑا ہونا پڑا۔ ریاست آئیوا میں انتخابی گنتی کرنے والی مشین کے بارے میں شکایت موصول ہوئی ہیں جس کی وجہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی پر کم از کم ایک دن لگ سکتا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق منگل کے روز ہونے والی پولنگ کے دوران ڈالے جانے والے ووٹوں کی شرح یا ٹرن آوٹ بہت زیادہ رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||