2004: قانون سازی پر ایک نظر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سال دو ہزار چار پاکستان کی پارلیمان کی کارکردگی کے اعتبار سے حکومت کے لیے گزشتہ سال کی نسبت خاصا بہتر رہا کیونکہ حکومت حزب مخالف کے احتجاج اور کڑی تنقید کے باوجود بھی قومی اسمبلی سے قانون سازی کے سولہ بل منظور کرانے میں کامیاب رہی۔ قومی اسمبلی سے منظور کردہ بیشتر بل حکومت نے ایوان بالا یعنی سینیٹ سے بھی منظور کرالیے۔ منظور ہونے والے ان بلوں میں چھ خاصے اہم اور متنازعہ بل بھی شامل ہیں۔ چھ متنازعہ بلوں میں صدر جنرل پرویز مشرف کو اکتیس دسمبر کے بعد بھی فوجی عہدہ رکھ سکنے کا مجاز بنانے کا بل بھی شامل ہے۔ یہ قانون بن چکا ہے اور اس کا اطلاق اکتیس دسمبر سے ہوگا۔ یہ قانون صرف جنرل پرویز مشرف کی ذات کے لیے ہے اور جب تک وہ صدر مملکت کے منصب پر رہیں گے اس وقت تک آرمی چیف بھی رہ سکیں گے۔ متنازعہ قومی سلامتی کونسل کے قیام کا بل بھی اس سال منظور ہوا جس کے بارے میں حزب مخالف کہتی ہے کہ اس سے فوج کو سیاست میں آئینی اور قانونی طور پر کردار مل گیا ہے۔ جبکہ حکومت کہتی ہے کہ اس قانون سے جو فورم وجود میں آیا ہے وہ ملک کی سیاسی اور فوجی قیادت کو مشاورت کا موقع فراہم کرے گا اور اس سے مسقتبل میں فوج کے اقتدار پر قابض ہونے کو روکا جا سکتا ہے۔ اِسی سال پاکستان میں جوہری برآمدات کا سکینڈل سامنے آیا۔ جوہری بم کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اقرار جرم کیا اور انہیں ہیرو سے ولن کے روپ میں سامنے لایا گیا۔ پاکستان حکومت نے جوہری برآمدات کو روکنے کے لیے سخت سزاؤں پر مبنی قانون بھی منظور کرایا جو اب لاگو ہوچکا ہے۔
کارو کاری یعنی غیرت کے نام پر قتل کرنے والوں کو سزائے موت دینے کا قانون بھی حکومت نے اِسی سال منظور کرایا لیکن جہاں حزب مخالف نے اسے ناقص قانون قرار دے کر مسترد کیا وہاں خواتین کے حقوق کی غیرسرکاری تنظیموں نے بھی اس قانون کو نمائشی قرار دیتے ہوئے قبول کرنے سے انکار کیا۔ حزب مخالف اور خواتین کی تنظیموں کی خواہش تھی کہ اس میں قاتل کو ورثاء کی جانب سے معافی دینے کی شق ختم کی جائے۔ کیونکہ ان کے بقول اس طرح کے قتل میں انتہائی قریبی رشتہ دار ہی ملوث ہوتے ہیں جنہیں لواحقین معاف کر دیں گے اور نتیجتاً قاتل سزا سے بچ جائیں گے۔ لیکن حکومت کا موقف تھا کہ اسلام میں معافی کی گنجائش ہے اور متعلقہ شق ختم کرنے سے اس قانون کے بارے میں اسلام کے منافی قانون کا سوال پیدا ہوگا۔ سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین کے خلاف حزب مخالف نے دو بار عدم اعتماد کی تحریکیں پیش کیں لیکن یہ ناکام ہوئیں۔ اس سال فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے قانون میں ترمیم کا بل بھی پاس ہوا جو ملک کی خفیہ ایجنسی’آئی ایس آئی‘ کو گریڈ سولہ اور اس سے اوپر کے تمام ملازمین کو براہ راست بھرتی کرنے کا اختیار ایجنسی کے سربراہ کو دینے کے بارے میں تھا۔ اس سال کے آغاز میں صدر جنرل پرویز مشرف پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے میں بھی کامیاب ہوئے لیکن ان کی تقریر کے دوران جہاں سابق وزراء اعظم بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی تصاویر لہرائی گئیں وہاں آصف علی زرداری اور جاوید ہاشمی کی رہائی کے لیے بھی نعرے لگتے رہے۔ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے صدر کا خطاب کرنا آئینی تقاضا ہے جو اس سے گزشتہ سال پورا نہیں ہوا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||