گوشوارے جمع کرانے کا حکم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر نے گیارہ اکتوبر کو کمیشن کا اجلاس طلب کیا ہے جس میں پارلیمینٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ان اراکین کی رکنیت معطل کرنے پر غور کیا جائے گا جو اپنے اثاثہ جات اور واجبات کے سالانہ گوشوارے جمع نہیں کرا پائے ۔ قانون کے مطابق پارلیمینٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین، ہر سال تیس جون کو ختم ہونے والے مالی سال کے لیے تیس ستمبر تک اپنے گوشوارے جمع کرانے کے پابند ہیں۔ قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اراکین نہ صرف اپنے بلکہ اپنے اہل خانہ کے نام اثاثہ جات اور واجبات کی تفصیلات جمع کرانے کے بھی ذمہ دار ہیں۔ الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق اس مرتبہ ایک سو سے زائد اراکین نے مقررہ تاریخ ختم ہونے کے باوجود بھی گوشوارے جمع نہیں کرائے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم، وزراء اعلی، وزراء اور اہم سیاسی رہنماؤں نے اپنے گوشوارے جمع کرادئے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر ارشاد حسن خان نے خلاف ورزی کرنے والے تمام اراکین سے کہا ہے کہ فوری طور پر وہ اپنے گوشوراے الیکشن کمیشن میں مقرر کردہ فارم پر جمع کرائیں بصورت دیگر وہ قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کے پابند ہیں۔ چیف الیکشن کمشنرخلاف ورزی کرنے والے اراکین پر متعلقہ ایوان کے اجلاس میں شرکت پر پابندی عائد کرسکتے ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے بعض اراکین پر گزشتہ سال اس طرح کی پابندی عائد بھی کی تھی۔ لیکن جب متعلقہ اراکین نے گوشوارے جمع کرائے تو ان پر وہ پابندی ختم کردی گئی تھی۔ قانون کے مطابق اثاثہ جات چھپانا ایک جرم ہے جس کی سزا تین سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جاسکتی ہیں۔ پاکستان کی پارلیمینٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں کل منتخب اراکین کی تعداد گیارہ سو ستر ہے۔ ان میں قومی اسمبلی کے تین سو بیالیس، سینیٹ کے ایک سو، پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں تین سو اکہتر، سندھ کےایک سو اڑسٹھ ، صوبہ سرحد میں ایک سو چوبیس اور بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی تعداد پینسٹھ ہے۔ الیکشن کمیشن نے اس مرتبہ گوشوارے جمع نہ کرانے والے اراکین کے نام ظاہر نہیں کیے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال چیف الیکشن کمشنر نے مقررہ تاریخ تک گوشوارے جمع نہ کرانے والے اراکین کے ناموں کی فہرست جاری کی تھی جس پر کئی اراکین نے ان پر کڑی نکتہ چینی کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||