| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ارکان اسمبلی حق نمائندگی سے محروم
چیف الیکشن کمشنر جسٹس ارشاد حسن نے بدھ کو قومی اسمبلی کے ایک رکن سمیت پانچ ارکان پارلیمان کو اثاثہ جات کے گوشوارے جمع نہ کرانےکی پاداش میں ان کو عوامی نمائندگی کے حق سے محروم کر دیا ہے۔ حق نمائندگی سے محروم ہونے والوں میں قومی اسمبلی کے حلقہ ایک این اے سو سڑسٹھ وہاڑی سے رکن اسحاق خاکوانی اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے چار ارکان شامل ہیں۔ ان چار ارکان صوبائی اسمبلی میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (قائد اعظم) سے تعلق رکھنے والے ارکان قیصر امین بٹ، جواد کامران کھر اور لبنیٰ ملک جبکہ متحدہ مجلس عمل کے سید وسیم اختر شامل ہیں۔ رکن قومی اسمبلی اسحق خاکوانی کا تعلق بھی حکمراں جماعت مسلم لیگ(ق) سے ہی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس ارشاد حسن نے حکم دیا ہے کہ جب تک یہ ارکان اثاثوں کے گواشوارے جمع نہیں کرائیں گے بطور عوامی نمائندہ کام نہیں کر سکیں گے۔ قانون کے مطابق اراکینِ پارلیمان کے لیے لازم ہے کہ وہ ہر سال پندرہ اکتوبر تک اپنے اثاثہ جات اور ذمہ داریوں کی مکمل تفصیلات الیکشن کمشن کو فراہم کریں۔ عوام کے نمائندوں پر یہ پابندی پہلی دفعہ لگائی گئی ہے جس کے خلاف انہوں نے قومی اسمبلی میں بہت شور بھی مچایا لیکن اکثریت نے گوشوارے جمع بھی کرا دیئے تھے۔ اس پابندی کے خلاف سب سے پہلے احتجاج اسحاق خاکوانی نے کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر بھی اپنے اثاثوں کی تفصیلات قوم کو بتائیں۔ چیف الیکشن کے اعلان کے مطابق تمام گوشوارے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مقررہ فیس کے عوض حاصل کئے جا سکتے تھے۔ چیف الیکشن کمشنر کے اعلان کے مطابق قانون کی خلاف ورزی پر قومی نمائندگی کے حق سے محرومی کے علاوہ اور کوئی سزا مقرر نہیں۔ اثاثوں کی تفصیل الیکشن کمشن میں جمع کرا دینے پر ان نمائندوں کا حق نمائندگی بحال ہو جائے گا۔ ابتداء میں چیف الیکشن کمشنر نے اثاثوں کی تفصیل الیکشن کمشن میں جمع کرانے کی آخری تاریخ تیس ستمبر مقرر کی تھی۔ تاہم بعد میں اعلان کئے بغیر پندرہ اکتوبر تک گوشوارے وصول کئے جاتے رہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے تیرہ اکتوبر کو کئے جانے والے اعلان کے مطابق چیف الیکشن اکتوبر پندرہ کو بارہ بجے تک گوشوارے جمع کرائے جاسکتے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||