’سیاسی جماعتیں حساب دیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر ارشاد حسن خان نے تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے کہا ہے کہ وہ اپنی جماعتوں کےگذشتہ مالیاتی سال کے دوران آمدن، اخراجات، املاک، قرضہ جات اور ذرائع آمدنی کی معلومات پر مبنی گوشوارے انتیس اگست تک جمع کرائیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے متعارف کرائی گئی سیاسی اصلاحات کے سلسلے میں نافذ کردہ ’پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 ، کے تحت تمام سیاسی جماعتیں سالانہ گوشوارے جمع کرانے کی پابند ہیں۔ قانون کے مطابق جو جماعت گوشوارے جمع نہیں کرائے گی اسے الیکشن کمیشن بطور سیاسی جماعت تسلیم نہیں کرے گا اور نہ ہی اس جماعت کو انتخابی نشان دیا جائے گا۔ جمعہ کو کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں سیاسی جماعتوں سے کہا گیا ہے کہ آمدن، اخراجات، املاک اور قرضہ جات کےگوشوارے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سے تصدیق شدہ ہونے چاہیے۔ گوشواروں کے ساتھ سیاسی جماعت کے سربراہ پر لازم ہے کہ وہ ایک سرٹیفکیٹ بھی پیش کریں گے جس میں ممنوعہ ذرائع سے کوئی آمدن حاصل نے ہونے کی تصدیق کی جائے گی۔ کمیشن کے ترجمان کے مطابق مطلوبہ تفصیلات الیکشن کمیشن کے شائع شدہ فارم میں درج کرکے جمع کرانے ہوں گے۔ سن دوہزار دو میں ہونے والے عام انتخابات کے موقع پر الیکشن کمیشن سے ستر کے لگ بھگ سیاسی جماعتوں نے انتخابی نشانات حاصل کرنے کی درخواستیں دی تھیں۔ یاد رہے کہ اس قانون کے تحت سیاسی جماعت اور سرکاری عہدے ایک ساتھ رکھنے پر پابندی تھی لیکن حال ہی میں ایک ترمیمی بل کے ذریعے متعلقہ شق ختم کردی گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||