BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 September, 2004, 14:10 GMT 19:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوشوارے: 34 جماعتوں کو نوٹس

چیف الیکشن کمیشنر جسٹس ارشاد حسن
چیف الیکشن کمیشنر جسٹس ارشاد حسن
پاکستان الیکشن کمیشن نے پینتالیس سیاسی جماعتوں کے اثاثوں اور قرضہ جات کے گوشوارے درست قرار دیے ہیں جبکہ چونتیس سیاسی جماعتوں کو یادداشت نامہ بھیجا ہے کہ تیس دنوں کے اندر گوشوارے جمع کرائے جائیں، بصورت دیگر انہیں آئندہ انتخابات میں انتخابی نشان الاٹ نہیں کیا جائے گا۔

بدھ کے روز چیف الیکشن کمشنر کی صدارت میں ہونے والے الیکشن کمیشن کے اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال سن دوہزار تین اور چار، جو تیس جون کو ختم ہوا، اس کے متعلق کل 59 سیاسی جماعتوں نے گوشوارے جمع کرائے۔

ان میں سے پینتالیس سیاسی جماعتوں کے گوشوارے درست قرار پائے۔ درست گوشوارے جمع کرانے والی سیاسی جماعتوں میں حکمران اور حزب اختلاف کے اتحادوں میں شامل بیشتر سیاسی جماعتیں ہیں۔

حکمران پاکستان مسلم لیگ کے علاوہ چار اور مسلم لیگ کے دھڑوں نے بھی اپنی علیحدہ شناخت برقرار رکھتے ہوئے گوشوارے جمع کرائے ہیں جس سے صدر مشرف کی خواہش پر تمام مسلم لیگی دھڑوں کے ادغام کا حکمران جماعت کا دعویٰ درست ثابت نہیں ہوتا۔

علیحدہ شناخت برقرار رکھتے ہوئے پیر پگاڑہ کی سربراہی میں قائم مسلم لیگ فنکشنل، مسلم لیگ نواز، مسلم لیگ قاسم اور مسلم لیگ قیوم نے گوشوارے جمع کرائے ہیں۔

گیارہ سیاسی جماعتوں نے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سے تصدیق کرائے بنا گوشوارے جمع کرائے ہیں جو کمیشن نے قبول نہیں کیے۔ الیکشن کمیشن نے ان گیارہ سیاسی جماعتوں کو ہدایت کی ہے کہ مطلوبہ تصدیق کرانے کے بعد بدست دوبارہ گوشوارے جمع کرائے جائیں۔

جن گیارہ جماعتوں کو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سے تصدیق کرانے کے بعد دوبارہ گوشوارے جمع کرانے کو کہا گیا ہے وہ بیشتر چھوٹی اور علاقائی سیاسی اور مذہبی جماعتیں ہیں، ایسی جماعتوں کو عرف عام میں تانگہ پارٹیاں کہا جاتا ہے۔

کمیشن نے ڈاک کے ذریعے گوشوارے بھیجنے والی ایک جماعت عوامی قیادت پارٹی سے کہا ہے کہ وہ روبرو جمع کرائیں۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ڈاک کے ذریعے گوشوارے بھیجنا خلاف قانون ہے اور کسی جماعت کے درست پائے جانے کے باوجود بھی گوشوارے قبول نہیں کیے جائیں گے۔

الیکشن کمیشن نے چونتیس جماعتوں کو یاداشت نامہ بھیجنے کی ہدایت کی ہے کہ اگر انہوں نے آئندہ تیس دنوں میں گوشوارے جمع نہیں کرائے تو انہیں آئندہ انتخابات کے موقع پر انتخابی نشان نہیں دیا جائے گا۔

ان جماعتوں میں اسفند یار ولی کی سربراہی میں قائم عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل موومنٹ اور بلوچستان نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی شامل ہیں۔ جبکہ دیگر چھوٹی چھوٹی جماعتیں ہیں جن میں پشتو فلموں کی سابقہ ہیروئن مسرت شاہیں کی پارٹی بھی شامل ہے۔

جن جماعتوں کو یاداشت نامے بھیجے جا رہے ہیں ان میں نیشنل الائنس اور ملت پارٹی جو حکمران مسلم لیگ میں مدغم ہوچکی ہیں، بھی شامل ہیں۔

مہاجر قومی موومنٹ نے درخواست دی ہے کہ ان کی مرکزی کمیٹی کے تمام اراکین جیل میں ہیں لہٰذا انہیں گوشوارے جمع کرانے سے مستشنیٰ قرار دیا جائے۔ الیکشن کمیشن نے ان سے کہا ہے کہ وہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے ذریعے گوشوارے بھیجیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد