| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ججوں اور جرنیلوں کے اثاثے
پاکستان میں گوشوارے الیکشن کمیشن کو جمع نہ کرانے کی پاداش میں پانچ منتخب نمائندوں کی رکنیت معطل ہونے کے بعد سے جرنیلوں اور ججوں کے اثاثوں کے بارے میں بھی سوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ متحدہ اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام جرنیل اور جج اپنے اثاثوں کا اعلان کریں۔ متحدہ اپوزیشن کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی حافظ حسین احمد نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جرنیلوں کے اندرون ملک اور بیرون ملک تمام اثاثوں کا اعلان ہونا چاہیے۔ ’جب بے نظیر اور نواز شریف کے بیرون ملک اثاثوں کی بات ہو سکتی ہے تو جرنیلوں کی کیوں نہیں؟‘ حافظ حسین احمد شے جب پوچھا گیا کہ جنرل مشرف نے تو اقتدار میں آنے کے بعد اپنے اثاثوں کا اعلان کیا تھا تو انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف صدر بھی ہیں اور صدر کو ہر سال اپنے اثاثے اور گوشوارے جمع کرانا ہوتےہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام جرنیلوں کو گوشوارے جمع کرانا چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں حصہ لینے کے علاوہ جرنیلوں نے پاکستان کی تمام بتیس یا پینتس کارپوریشنوں کے سربراہوں کے عہدے بھی جرنیلوں نے سنبھال رکھے ہیں۔ تاہم قومی احتساب بیورو کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قانون کے تحت جرنیلوں کے گوشوارے جمع کرانے کی ضرورت نہیں کیوں کے فوج کا اپنا احتساب کا طریقہ کار موجود ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ منتخب نمائندوں اور سول سرونٹس کے احتساب کے لیے بھی قانوں موجود ہیں لیکن اس کے باوجود اسپیشل قوانین بنائے گئے اور احتساب بیورو قائم کیا تو اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے جرنیلوں کے لیے بھی خصوصی قوانین ہونے چاہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||