وردی کے خلاف احتجاج جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی میں متحدہ حزب اختلاف نے صدر جنرل پرویز مشرف کے فوجی وردی میں رہنے کے متعلق بل کی منظوری کے خلاف پیر کے روز بھی اپنے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا۔ لیکن اس بار اپوزیشن کا احتجاج پارلیمان کے اندر تک ہی محدود رہا اور جمعہ کے روز کی طرح وہ سڑک پر باہر نہیں آئے۔ حزب اختلاف نے کارروائی میں حصہ نہیں لیا اور کچھ دیر احتجاج کرنے اور اپنی نشستیں چھوڑ کر سپیکر کے سامنے’گ و مشرف گو‘ کے نعرے لگانے کے بعد ایوان سے باہر چلے گئے۔ حزب اختلاف کی غیرموجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت نے ایجنڈے کے مطابق باآسانی کارروائی مکمل کر لی۔ وزیراطلاعات نے پریس، اخبارات، خبر رساں ایجنسیوں اور کتابوں کی رجسٹریشن کے آرڈیننس 2002 میں ترمیم کا بل پیش کیا۔ جبکہ توہین عدالت کے متعلق عدالتوں کی طرف سے سزا دینے کے اختیارات کو منضبط کرنے کا بل بھی منظور کرایا گیا۔ وزیر داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ کی جانب سے پیش کردہ انسداد دہشت گردی ایکٹ مجریہ 1997 میں ترمیم بل بھی حکومت نے یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے اکثریت رائے سے منظور کرایا۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں نے حکومت کی جانب سے یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے قانون سازی کے متعلق مختلف بلوں کی منظوری کو غیرقانونی اور یکطرفہ قرار دیتے ہوئے ان پر تنقید کی۔ پارلیمان کی لابی میں ایوان کی کارروائی کے غیر اعلانیہ بائیکاٹ کے بعد اتحاد برائے بحالی جمہوریت اور متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ قومی اسمبلی کی نشستوں سے مستعفی ہو کر حکومت کے لیے کھلا میدان نہیں چھوڑنا چاہتے۔ قاضی حسین احمد، چودھری نثار علی خان، شاہ محمود قریشی اور دیگر کا کہنا تھا کہ حکومت نے صدر کے دو عہدے رکھنے کے متعلق بل منظور کرا کے پارلیمان کا وقار مجروح کیا ہے اور وہ اس کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ پیر کی صبح اجلاس کے شروع ہوتے ہی حکومتی بینچوں پر خاصی کم تعداد میں اراکین بیٹھے تھے اور تلاوت کے بعد جیسے ہی سپیکر نے کارروائی کو آگے بڑھانا چاہا تو حزب اختلاف کے رکن حنیف عباسی نے کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کر دی۔ سپیکر نے گنتی کرائی تو کورم پورا نہیں تھا جس پر انہوں نے اجلاس کی کارروائی معطل کر دی جو ڈیڑھ گھنٹے تک معطل رہی۔ یاد رہے کہ حکومتی بینچوں پر بیٹھنے والے اراکین کی تعداد ویسے تو ایک سو پچانوے سے بھی زیادہ ہے لیکن کورم کے لیے مطلوبہ تعداد یعنی چھیاسی اراکین بھی ایوان میں موجود نہیں تھے۔ اجلاس میں سرکاری اراکین کی عدم موجودگی کے متعلق حزب اختلاف کا دعویٰ ہے کہ کئی اراکین کو وزیر بنانے کا آسرا دیا گیا تھا اور انہیں وزیر نہ بنائے جانے کے بعد کئی اراکین حکومت سے ناراض ہیں۔ پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی نے حزب اختلاف کے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی بینچوں میں مکمل اتحاد ہے اور کوئی اختلاف رائے نہیں پایا جاتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||