مشرف کو آئے پانچ سال ہو گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کو منگل بارہ اکتوبر کو پانچ سال پورے ہوگئے ہیں۔ اس موقع پر جہاں حکومت نےخوشیاں منائیں وہاں حزب اختلاف کی جماعتوں اور وکلاء نے یوم سیاہ منایا۔ پاکستان سے شائع ہونے والے بیشتر اخبارات میں حکومت نے بارہ اکتوبر کو اشتہارات کی صورت میں صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز کی بڑی بڑی رنگین تصاویر شائع کرائی ہیں۔ اس موقع پر کئی اخبارات نے چوبیس صفحات پر مشتمل خصوصی ضمیمے بھی شائع کیے ہیں جس میں جنرل مشرف کی حکومت کے پانچ سالہ دور میں شروع ہونے والے ’ترقیاتی منصوبوں، اقتصادی اصلاحات، اور حاصل کردہ اہداف کے اعداد وشمار دیئے گئے ہیں‘۔ مسلم لیگ نواز کے ترجمان صدیق الفاروق نے اس موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بارہ اکتوبر پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے کیونکہ پانچ سال قبل اس دن آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف نے منتخب حکومت کا تختہ الٹا اور خود حکمران بن گئے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے پانچ سالہ دور میں ملک کو سخت نقصان پہنچا۔ ان کے بقول جمھوری ادرے تباہ ہوئے اور کشمیر پالسیی تبدیل کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کی پالسیی کی وجہ سے ہی بھارت متنازعہ کنٹرول لائن پر باڑ کی تعمیر مکمل کرنے والا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کے مختلف شہروں میں پارٹی کے دفاتر پر سیاہ پرچم لہرائے گئے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھی گئیں اور کارنر میٹنگ بھی ہوئیں۔ بارہ اکتوبر کو وکلاء کی جانب سے بھی یوم سیاہ منانے کی اپیل کی گئی تھی اور اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے سامنے صدر دروازے پر سیاہ پرچم لہرایا اور وکلاء نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ سپریم کورٹ بار کے صدر جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کی سربراہی میں ہونے والے مظاہرے میں چاروں صوبوں سے آئے ہوئے وکلاء کے نمائندے شریک تھے۔ وکلاء نے صدر جنرل مشرف کے پانچ سالہ دور کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ عدلیا سمیت تمام ادارے تباہ ہوچکے ہیں۔ انہوں نے سترویں ترمیم کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء برادری انیس و تہتر کے آئین کی اصل شکل میں بحالی تک جدوجہد جاری رکھے گی۔ حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں احتجاج اور علامتی واک آؤٹ بھی کیا۔ قاضی حسین احمد اور سید خورشید احمد شاہ نے نکتہ اعتراضات پر کہا کہ بارہ اکتوبر ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے کیونکہ اس دن پارلیمان اور جمھوریت کا قتل کیا گیا تھا۔ حزب اختلاف کے بیشتر اراکین نے شام کو اس وقت قومی اسمبلی میں گو مشرف گو کے نعرے لگائے اور علامتی واک آؤٹ کیا جس وقت پر پانچ سال قبل جنرل مشرف کے حامی کمانڈروں نے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو نظربند کرکے اہم عمارات پر قبضہ کیا تھا۔ حکومت کی جانب سے پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نے اس موقع پر کہا کہ انہیں حزب اختلاف کے رویے پر افسوس ہے کیونکہ کل تک بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری پر نواز شریف حکومت نے بدعنوانی کے مقدمات بنائے جو آج تک وہ بھگت رہے ہیں۔ وزیر نے کہا کہ پانچ برس قبل جب نواز شریف کی حکومت خاتمہ ہوا تھا اس وقت پیپلز پارٹی نے مٹھائیاں بانٹی تھیں لیکن آج دونوں جماعتیں اپنے مفاد کے لیے متحد ہیں۔ڈاکٹر شیرافگن کے اس بیان پر خواجہ سعد رفیق اور کئی ممبروں نے ان کو’ لوٹا لوٹا‘ کہہ کر خاموش رہنے کی آوازیں دیں۔ بارہ اکتوبر کو شایع شدہ اخبارات میں حکومتی ضمیموں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے اصلاحات کی بدولت ملک کے اندر نجی شعبے میں دس ٹی وی چینلز اور بیس ایف ایم ریڈیو سٹیشن قائم ہوئے ہیں۔ان پانچ برسوں میں انٹرنیٹ کی سہولت ملک کے انتیس شہروں سے بڑھاکر اٹھارہ سو شہروں تک کردی گئی ہے۔ ضمیموں میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سن ننانوے تک موبائیل فون استعمال کرنے والوں کی تعداد سوا دو لاکھ تھی جو اب حکومتی اعداد و شمار کے مطابق بڑھ کر چالیس لاکھ ہوگئی ہے۔ ایک اور دعوے کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد سوا لاکھ سے بڑھ کر ساٹھ لاکھ ہوگئی ہے۔ اس کتابچے میں بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو کے اقتباسات بھی شائع کیے گئے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نمایاں اور کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، مجھے افسوس ہوتا ہے جب کوئی ہم پر دہشت گردی کے خلاف کچھ نہ کرنے کا الزام لگاتا ہے۔ جب کہ ہم اس جنگ کے سب سے بڑے حصہ دار ہیں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||