| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرف کو اعتماد کا ووٹ مل گیا
سترھویں آئینی ترمیم کے تحت جمعرات کو صدر جنرل پرویز مشرف نے بطور صدر مملکت اپنے عہدہ کی توثیق کے لئے قومی اسمبلی، سینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے کل ارکان کی اکثریت سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا۔ پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل پرویز مشرف اپریل سنہ دو ہزار دو میں ایک متنازعہ صدارتی ریفرنڈم کے ذریعے صدر منتخب ہوئے تھے جسے حزب مخالف نے آئین سے انحراف قرار دیا تھا۔ پارلیمینٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے کل گیارہ سو اڑسٹھ ارکان میں سے چھ سو اٹھاون ارکان نے صدر مشرف پر اعتماد کے لیے پیش کی گئی قرارداد کے حق میں ووٹ استعمال کیا جبکہ دو سو چھتیس ارکان نے راۓ شماری میں حصہ نہیں لیا تاہم وہ ایوانوں میں بیٹھے رہے اور دو سو تہتر ایوان میں آئے ہی نہیں۔ اے آر ڈی کی جماعتوں کے ارکان کارروائی کا بائیکاٹ کرکے چلے گۓ۔ صدر مشرف کو سرحد اور بلوچستان کے کل ارکان کی اکثریت کا ووٹ نہیں مل سکا۔ دونوں اسمبلیو ں میں متحدہ مجلس عمل کے ارکان بڑی تعداد میں موجود ہیں جنھوں نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے ارکان نے اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور غیر حاضر رہے جبکہ مجلس عمل کے ارکان حکومت سے ایک معاہدے کے تحت ایوانوں میں موجود رہے لیکن انھوں نے قرار داد کے حق یا مخالفت میں ووٹ نہیں دیا۔ الیکشن کمیشن کی آج صبح جاری کی گئی رولنگ کے مطابق جو ارکان ایوان میں موجود رہے اور انھوں نے حق یا مخالفت میں ووٹ نہیں دیا ان کو کارروائی میں شریک لیکن ووٹنگ سے غیرحاضر تصور کیا جاۓ گا۔ سینیٹ کے ننانوے ارکان میں سے چھپن ارکان نے جنرل مشرف پر اعتماد کا اظہار کیا جبکہ متحدہ مجلس عمل کے رہنما ساجد میر نے قرار داد کی مخالفت میں ووٹ دیا اور بیالیس ارکان کارروائی سے غیر حاضر رہے۔ قومی اسمبلی میں تین سو بیالیس میں سے ایک سو اکیانوے ارکان نے جنرل مشرف کے حق میں ووٹ دیا، بانوے ارکان نے راۓ شماری میں حصہ نہیں لیا اور اٹھاون ارکان غیر حاضر رہے۔ سندھ اسمبلی میں ایک سو اڑسٹھ ارکان میں سے ننانوے کی اکثریت نے جنرل مشرف کے حق میں ووٹ دیا، ستائیس ارکان نے راۓ شماری میں حصہ نہیں لیا جبکہ بیالیس ارکان غیر حاضر رہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے دو ارکان سہراب سرکی اور بانو صغیر حکومتی ارکان سے جا ملے اور انھوں نے صدر مشرف کو اعتماد کا ووٹ دیا۔ وہ جنرل مشرف کو ووٹ ڈالنے والے پہلے ارکان میں شامل تھے۔ سندھ اسمبلی میں اعتماد کے ووٹ کے لیے کارروائی کا آغاز ہوا تو حزب مخالف کے ارکان نے ایران کے زلزلہ میں مرنے والوں کے لیےفاتحہ کے لئے کہا جس کی پریزائیڈنگ آفیسر چیف جسٹس سندھ سید سعید اشعر نے اجازت نہیں دی۔ تاہم پیپلز پارٹی اور متحدہ مجلس عمل کے ارکان نے فاتحہ خوانی کی۔ دوسری طرف حکومتی ارکان کی طرف سے صدر پر اعتماد کی قرارداد پیش کردی گئی۔ اس دوران میں پیپلز پارٹی کے ارکان احتجاج کرتے رہے اور ایوان سے باہر چلے گۓ۔ متحدہ مجلس عمل کے پانچ ارکان ایوان میں موجود رہے۔ صوبہ سرحد میں ایک سو چوبیس ارکان میں سے تیس ارکان نے قرار داد کے حق میں ووٹ دیا، سڑسٹھ ارکان نے راۓ شماری میں حصہ نہیں لیا جبکہ ستائیس ارکان غیر حاضر رہے۔ صوبہ سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی کے دو ارکان اور مجلس عمل کے ایک رکن نے اپنی پارٹیوں کی پالسی کے برعکس صدر مشرف کے حق میں ووٹ دیا۔ بلوچستان اسمبلی کے ایوان میں صدر پر اعتماد کی قرار داد پیش کی گئی تو حزب مخالف کی تین جماعتوں جمہوری وطن پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی نے کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ متحدہ مجلس عمل کے ارکان نے راۓ شماری میں حصہ نہیں لیا۔ بلوچستان میں اسمبلی کے پینسٹھ ارکان میں سے اٹھائیس ارکان نے صدر پر اعتماد کی قرار داد کے حق میں اور ایک رکن نے راۓ شماری میں حصہ نہیں لیا جبکہ چھتیس ارکان اجلاس سے غیر حاضر رہے۔ پنجاب اسمبلی میں اجلاس تاخیر سے پونے بارہ بجے شروع ہوا تو مسلم لیگ(ن) کے رانا ثنا اللہ نے کھڑے ہوکر بولنا شروع کردیا تاہم چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے حزب مخالف کے ارکان سے کہا کہ آج کا خصوصی اجلاس ہے جس میں کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں دی جاۓ گی اور صرف وہ کارروائی کی جاۓ گی جس کے لیے اجلاس بلایا گیا ہے۔ اس پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے ارکان نے نعرے بازی شروع کردی اور گو مشرف گو کے نعرے لگاۓ اور اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔ تاہم مجلس عمل کے ارکان اجلاس میں بیٹھے رہے۔ پنجاب اسمبلی میں تین سو اکہتر ارکان میں سے دو سو چون ارکان نے جنرل مشرف کے حق میں ووٹ دیا اور سات ارکان نے راۓ شماری میں حصہ نہیں لیا جبکہ پیپلز پارٹی او مسلم لیگ(ن) کے ارکان غیر حاضر رہے۔ جنرل مشرف نے سال دو ہزار دو میں ریفرنڈم کے بعد بطور صدر حلف اٹھایا تھا۔ تاہم دو ہزار دو میں ہونے والے انتخابات کے نتیجہ میں وجود میں آنے والے حزب اختلاف نے انہیں صدر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن گزشہ ہفتہ حزب اختلاف کے بڑے اتحاد متحدہ مجلس عمل اور حکومت کے مابین طے پانے والے سمجھوتے اور اس کے نتیجہ میں آئین میں سترہویں ترمیم کے بعد انہیں صدارت کی بقیہ مدت کے لئے پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں سے اعتماد کا ووٹ لینا حاصل کرنا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||