| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
چارٹر کو وسیع کیاجائے:مشرف
صدر پرویز مشرف نے آج سارک ملکوں کے سربراہوں کو دی گئی سرکاری ضیافت کے موقع پر کہا ہے کہ سارک تنظیم کے چارٹر کو توسیع دی جاۓ اور اس میں دو طرفہ معاملات پر بات چیت کے لیے طریق کار کو شامل کیا جاۓ۔ صدر مشرف نے ایوان صدر میں دی گئی ضیافت کے موقع پر ہندوستان کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی سمیت تمام سارک کے ملکوں کے سربراہوں سے اجتماعی ملاقات کی۔ صدر مشرف نے کہا کہ انھوں نے کہا کہ آٹھارہ سال میں سارک ایک کمزور تنظیم رہی ہے اور یہ اس وقت تک اپنی پوری صلاحیت کےمطابق کام نہیں کرسکتی جب تک رکن ملکوں کے سیاسی تنازعات پرامن اور منصفانہ طریقہ سے حل نہیں ہوجاتے۔ انھوں نے کہا کہ جو تنازعات ہمیں ایک دوسرے سے دور لے جاتے ہیں انھیں انصاف، باہمی اعتماد اور عزت کے ساتھ حل کرنا ہوگا۔ صدر مشرف نے کہا کہ امن کی غیر موجودگی میں کوئی ترقی نہیں ہوسکتی اور امن اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک سیاسی تنازعات موجود ہیں۔ صدر مشرف نے کہا کہ سارک کے وژن کو پورا کرنے کے لیے سیاسی تنازعات کا حل ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ سارک کے ملکوں کو مشکلات سے نبرد آزما ہونا ہوگا نہ کہ ان سے شرما کر پیچھ ہٹ جایا جاۓ یا ان تنازعات کے وجود سے انکار کردیا جاۓ۔ صدر مشرف نے کشمیر کے مسئلہ کا نام لیے بغیر کہا کہ پاکستان سیاسی تنازعات کا ایسا باعزت حل چاہتا ہے جس میں ایک دوسرے کے لیے گنجائش پیدا کرنے کی روح کارفرما ہو۔ سیاسی تنازعات کے حل کے لیے انھوں نے کہا کہ سارک کے چارٹر کو توسیع دی جاۓ اور اس میں دو طرفہ معاملات پر بات چیت کا طریق کار شامل کیا جاۓ۔ انھوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ ماضی یورپ کا تھا، حال امریکہ کا ہے اور مستقبل ایشیا کے ہاتھ میں ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ جنوب مشرقی ایشیا اور شمال مشرقی ایشیا میں رشتے بن رہے ہیں لیکن جنوب ایشیا اس ترقی کے دائرے سے باہر ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا علاقائی رشتہ نہیں بن سکا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ صورتحال سب کی سب مایوس کن بھی نہیں ہے اور سارک کے بارہ اجلاس ہوچکے ہیں اور قریبی اقتصادی تعلق اور دوسرے معاملات پر کنوینشن بن چکے ہیں جن سے کچھ پیش رفت کا پتا چلتا ہے لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سارک میں انسانی آبادی کا پانچواں حصہ رہتا ہے اس میں صلاحیت ہے کہ یہ دنیا کی اقتصادی ترقی کا مرکز بنے لیکن یہاں غربت ہے اور عورتیں اور بچے علاج اور پانی نہ ملنے سے مر جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوب ایشیا کی یہ خراب تصویر اس لیے ہے کہ ہم نے اپنی توانائیاں اندرونی اور بیرونی سیاسی جھگڑوں میں ضائع کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے اندر صلاحیت مخفی ہے کہ ہم اپنے مسائل کو حل کریں جس کے لیے ہمیں بہادری اور عزم دکھانا ہوگا اس تاریخی لمحہ کو گرفت میں لینے کے لیے تاکہ ہمارے لوگ امن اور خوشحالی کی زنگی گزار سکیں۔ صدر مشرف نے کہا کہ پاکستان اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان ایک قدیم تہذیب و تمدن کا گہوارہ ہے جہاں زراعت نے جنم لیا اور جب دنیا میں تاریکی تھی یہ علم کا گہوارہ تھا۔ صدرمشرف نے کہا کہ ہمیں ایک نۓ تہذیبی امتزاج کو تشکیل دینا ہے جس میں جنوب ایشیا کے ملک اپنی خود مختاری برقرار رکھتے ہوۓ اپنے تنوع ، برداشت، انسانیت اور ایک دوسرے کے لیے احترام کے ساتھ رہ سکیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||