 |  صدر مشرف بھی، جنرل مشرف بھی |
بارہ اکتوبر کو جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کے پانچ سال مکمل ہونے پر اگلے ہی دن حکومت نے قومی اسمبلی سے صدر کے دو عہدے رکھنے کے متعلق بل حزب اختلاف کے شدید احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے دوران اکثریت رائے سے منظور کرا لیا ہے۔ جہاں اس موقع پر کئی اخبارات نے خصوصی ضمیمے شائع کرکے جنرل مشرف کی حکومت کے پانچ سالہ دور میں شروع ہونے والے ’ترقیاتی منصوبوں، اقتصادی اصلاحات، اور حاصل کردہ اہداف‘ کے اعداد وشمار دیئے وہاں حزبِ اختلاف اور وکلاء کی تنظیموں نے یومِ سیاہ منایا۔ آپ کے خیال میں یہ پانچ سال کیسے گزرے؟ کیا جنرل مشرف کی متعارف کردہ ’جمہوریت‘ اصل جمہوریت ہے؟ گیارہ ستمبر کے واقعات اور امریکی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘نے جنرل پرویز مشرف کے دورِاقتدار میں کیا کردار ادا کیا؟ پاکستان اور انڈیا کے تعلقات اس دوران کیسے رہے؟ جنرل مشرف کے دو عہدے رکھنے پر آپ کیا سوچتے ہیں؟ عام آدمی کی زندگی پر ان کے دور کے کیا اثرات مرتب ہوئے۔ یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
نعیم شیخ، لاہور: مشرف صاحب تو شاید وردی اتار دیں لیکن وزیروں نے ان کی بیلٹ پکڑی ہوئی کہ نہ اتاریں۔ اعظم بٹ، کینیڈا: ارے بھائی جو مزا وردی میں ہے وہ وردی کے بغیر کہاں۔ اس میں جیسی عزت اور ’رعب‘ ہے اور کہیں نہیں۔ جیسے نواز شریف اس دن کو یاد کرکے پچھتاتے ہوں گے جب انہیں نے مشرف کے عہدے میں اضافہ کیا تھا، ویسے ہی مشرف اس دن پر پشیمان ہوتے ہوں گے جب وردی اتارنے کا وعدہ کیا تھا۔ جاوید اقبال، فیصل آباد: اگر آپ مشرف کا موازنے کسی مغربی رہنما سے کریں تو مایوسی ہوگی لیکن بےنظیر اور نواز شریف کے مقابلے میں وہ کہیں باصلاحیت اور دیانت دار ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں یہ اہم نہیں کہ رہنما باوردی ہے یا وردی کے بغیر، اہم بات یہ ہے کہ وہ کچھ دے پاتا ہے یا نہیں۔ نواز شریف اور بی بی کے دور میں کون سی جمہوریت تھی۔ مدثر، پشاور: جی ہاں، وہ ملک کے لیے بہت اچھے ہیں اور انہیں دو ہزار سات تک وردی میں رہنا چاہیے۔
 | اکثریت کا فیصلہ  جنرل صاحب، بی بی سی کا یہ فورم پڑھ کر اپنی وردی کا فیصلہ کرلیں۔ انہیں پتہ چل جائے گا کہ کتنی بھاری اکثریت ان کے ساتھ ہے  علی عمران شاہین، لاہور |
علی عمران شاہین، لاہور: جنرل صاحب، بی بی سی کا یہ فورم پڑھ کر اپنی وردی کا فیصلہ کرلیں۔ انہیں پتہ چل جائے گا کہ کتنی بھاری اکثریت ان کے ساتھ ہے کہ یہ تو بالکل آزاد اور مکمل طور پر عوامی فورم ہے۔ عارف محمودی، گلگت: مشرف عظیم ہیں۔ شعیب اختر، بنوں: غریب ادمی کو جمہوریت سے کیا ملا، دو وقت کی روٹی، حلال کی نوکری؟ وردی کوئی خلافِ اسلام تو نہیں۔ اویس چودھری، جرمنی: صدر صاحب کے الفاظ ہیں ’میں فوجی آدمی ہوں، سیدھا بولتا ہوں اور سیدھا کرتا ہوں`۔ قوم سے جو وعدہ کیا تھا وہ کہاں گیا؟ اگر صدر صاحب وعدے کے پابند نہیں تو ان سے اور کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ محمد عادل آفریدی، کوہاٹ، پاکستان: میرے خیال میں مشرف پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں اس لیے وہ ایک اچھے رہنما نہیں۔ ہمارے خواہش ہے کہ وہ اب ریٹائر ہو جائیں۔ ہارون رشید، سیالکوٹ، پاکستان: جمہوریت صرف وہی ہے جو لوگوں کو ان کے حقوق دلائے، اپنی کرسی مضبوط کرنا کہاں کی جمہوریت ہے؟ ہم اس کے خلاف ہیں۔ عیسیٰ محمد خان اچکزئی، چمن، پاکستان: ہر کوئی جانتا ہے کہ جب سے مشرف حکومت میں آئے ہیں انہوں نے اسلام کو نقصان پہنچایا ہے اور صرف امریکہ کے حکم پر عمل کیا ہے۔پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا مگر مشرف کا ہر قدم اسلام کے خلاف ہے۔
 | منافق سیاستدان  پاکستان میں اس وقت کوئی لیڈرشپ نہیں ہے۔ سیاستدان سارے کے سارے منافق ہیں۔ اگر مشرف سیاست سیکھ لیں تو اچھے لیڈر بن سکتے ہیں۔  شبیر کاظمی، کینیڈا |
علینہ طاہر، ٹورانٹو، کینیڈا: سب چلتا ہے، صدر مشرف کم از کم ماضی کے حکمرانوں کی طرح بدعنوان تو نہیں ہیں۔ اگر وہ اپنے سارے فیصلے اپنے ہی ذہن سے کرنا شروع کر دیں تو یہ اچھا ہو گا، ورنہ مشیر تو اچھے خاصے آدمی کو خراب کر دیتے ہیں۔ شاہ حسین، مالاکنڈ ایجنسی، پاکستان: مشرف پاکستانی عوام اور امریکہ کی خواہشات میں توازن برقرار رکھنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ شبیر کاظمی، ٹورانٹو، کینیڈا: پاکستان میں اس وقت کوئی لیڈرشپ نہیں ہے۔ سیاستدان سارے کے سارے منافق ہیں۔ اگر مشرف سیاست سیکھ لیں تو اچھے لیڈر بن سکتے ہیں۔ بہت ذہیں انسان ہیں۔ شمس جیلانی، رچمونڈ، کینیڈا: جیسے مٹیار جھانجر کے بغیر نہیں جچتی اسی طرح پاکستان کا صدر وردی کے بغیر نہیں جچتا کیونکہ نگاہیں ایک مدت سے وردی میں دیکھنے کی عادی ہو چکی ہیں۔ رہی ترقی کی بات تو وہ تو گیارہ ستمبر کی مرہونِ منت ہے کیونکہ اس کی وجہ سے ہی لوگ پاکستان پیسہ بھیجنا شروع ہو گئے ہیں۔ محمد ساندھو، امریکہ: یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ بابر عباسی، کینیڈا: صدر مشرف کی وجہ سے پاکستان زیادہ مضبوط ہے اور دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ آسیہ احمد، فینکس، امریکہ: مشرف پاکستان کے لیے خطرناک ہیں۔ پاکستان ان کی قیادت میں سب کچھ کھو چکا ہے، اپنی عزت بھی۔ عبدالستار، شمالی کوریا: میرا خیال ہے صدر کو وردی اتار دینا چاہیے اپنے وعدے کے مطابق۔ حنیف سمون، ٹنڈو باگو،پاکستان: میرا خیال ہے جنرل مشرف اقتدار کی شدید ہوس رکھتے ہیں، ایوب خان، یحیٰ خان اور ضیاءالحق سے بھی زیادہ۔ وہ دیکھنے میں شاید زیادہ لبرل لگتے ہیں لیکن وہ ملک میں کبھی بھی حقیقی جمہوریت نہیں لائیں گے۔ خرم حبیب،ڈنمارک: مشرف نے پاکستان کے صدر، چیف آف سٹاف کی حیثیت سے پاکستانی حکومت اور سیاست پر پانچ سال تک راج کیا ہے لیکن اس دور میں بےروزگاری میں اضافہ ہوا ہے، سرکاری خزانے میں اضافہ ہوا ہے لیکن ترقی روک کر۔ تمام سرکاری اداروں کے سربراہ جرنیل ہیں جبکہ اصل ماہرین ملک چھوڑ رہے ہیں۔ جمہوریت پر اتنا برا دور کبھی بھی نہیں تھا کیونکہ اب تمام ادارے ایک شخص کی ذاتی پسند ناپسند کے تابع ہیں۔
 | کیا غلط کہا؟  اگر فوج کا سربراہ صدر ہو سکتا ہے اور ایک غیر ملکی ہمارا وزیراعظم ہو سکتا ہے تو براہِ کرم ملک کی اقتصادی حالت بہتر کرنے کے لیے ملائشیا کے مہاتر محمد صاحب کو بلایا جائے۔ کیوں غلط کہا میں نے؟  یونس قریشی، ڈیرہ اسمٰعیل خان |
مختار حسین، برسلز، بلجیم: اس وقت پاکستان کو اسی قسم کی قیادت کی ضرورت ہے جو ایماندار ہو اور پاکستان کا پیسہ برباد نہ کرے۔ دعا ہے کہ اللہ مشرف صاحب کا سایہ ہمیشہ ہمارے سر پر رکھے۔ محمد نواز، پاکستان: مشرف کی وجہ سے پاکستان کو اندرونی طور پر بہت نقصان پہنچا ہے۔ انہیں اب پاکستان کی جان چھوڑ دینا چاہیے۔ یونس قریشی، ڈیرہ اسمٰعیل خان، پاکستان: اگر فوج کا سربراہ صدر ہو سکتا ہے اور ایک غیر ملکی ہمارا وزیراعظم ہو سکتا ہے تو براہِ کرم ملک کی اقتصادی حالت بہتر کرنے کے لیے ملائشیا کے مہاتر محمد صاحب کو بلایا جائے۔ کیوں غلط کہا میں نے؟ اعجاز قریشی، کراچی، پاکستان: وہ ہمارے عظیم رہنما ہیں، ہمیں ان کی کوششوں کو سراہنا چاہیے۔ وہ ملاؤں سے بہت بہتر ہیں۔ میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ ہمیں قومی اور صوبائی اسمبلیوں پر ملک کا قیمتی پیسہ نہیں لگانا چاہیے۔ عمیر حسین، پشاور، پاکستان: ہر انسان میں خامیاں ہوتی ہیں، مشرف صاحب میں بھی کچھ ہیں لیکن بحیثیت مجموعی پاکستان نے ان کے دور میں بہت ترقی کی ہے۔ پاکستان میں پچاس سال سے جمہوریت نہیں ہے، اب ہم ان سے کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ وہ جمہوریت لے آئیں۔ سجاد صدیقی، کینبرا، آسٹریلیا: میں نہیں سمجھتا کہ معاشی ترقی کا سہرا مشرف کو جاتا ہے کیونکہ یہ کوئی بہتر پالیسیوں کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کا انعام ہیں۔ در حقیقت گذشتہ پانچ برسوں میں پاکستان نے وقار کھویا ہے اور اپنے نظریے سے منہ پھیرا ہے۔ بشیر حسین، لندن، برطانیہ: جنرل مشرف ایک ریجینل کمانڈر ہیں اورامریکہ کے مفادات کا دفاع ان کی ذمہ داری ہے۔ وہ یہ نوکری بہت اچھی طرح سرانجام دے رہے ہیں اس لیے وردی یا بے وردی کی بحث بالکل بے معنی ہے۔ آصف، لاہور، پاکستان: یہ پاکستان کے لیے بہت اچھا ہے کیونکہ مشرف کی حکومت ملک کی ترقی کی لیے ضروری ہے۔ نوید، ملتان، پاکستان: اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بل پاس ہوا یا نہیں کیونکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ کامل جان: بہت اچھے مشرف۔ زارا رحمٰن، دینہ، پاکستان: ’ صدر پاکستان جناب پرویز مشرف چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ مذید چند برسوں کے لیے اپنے عہدے سے دستبردار نہ ہوں‘۔ یہ ہے مشرف صاحب کی ’حقیقی جمہوریت`۔ شہزاد ریاض، میرپور، آزاد کشمیر: میرا خیال ہے کی جنرل مشرف کا یہ قدم غیر قانونی ہے۔
 | مذاق  ارے بھائی کیوں مذاق کرتے ہیں، کبھی کوئی ڈکٹیٹر بھی جمہوریت لایا ہے۔  صالح محمد، راولپنڈی |
صالح محمد، راولپنڈی، پاکستان: جناب اگر مشرف صاحب کے پاس ملک کے لیے کوئی پروگرام ہوتا تو اب تک نظر آ چکا ہوتا، پانچ سال کوئی کم عرصہ نہیں ہے۔ ارے بھائی کیوں مذاق کرتے ہیں، کبھی کوئی ڈکٹیٹر بھی جمہوریت لایا ہے۔ذہین شاہ افغان، دوہا، قطر: میرے خیال میں مشرف پاکستان کے لیے بہتریں کام کر رہے ہیں۔ میری قاضی حسین احمد اور دوسرے لیڈروں سے درخواست ہے کہ وہ مشرف صاحب کو کام کرنے دیں اور ان کو فضول مسائل میں نہ الجھائیں۔ طارق شاہ، اسلام آباد، پاکستان: ابھی تو دیکھیے اور کیا کیا کرتے ہیں جنرل صاحب پاکستان کے ساتھ، بہت جلد ہی کشمیر کے ساتھ اور اس کی ساتھ ساتھ اسلام کے ساتھ۔ محمد عدنان، لاہور، پاکستان: لگتا ہے جنرل مشرف کے خلاف وہی نعرہ لگانے کا وقت آ گیا ہے جو لوگوں نے ایوب خان کے خلاف لگایا تھا۔ علی قلی، پاکستان: میرا خیال ہے یہ ایک اچھا فیصلہ ہے۔ مشرف کو دونوں عہدے اپنے پاس رکھنے چاہیں کیونکہ ملاؤں نے نہ تو ماضی میں کوئی کام کیا ہے اور نہ اب کریں گے۔ انہوں نے پاکستان کو ایک دہشت گرد ملک کا لقب دلوایا ہے۔
 | اسلامی اور سیکولر  جنرل ضیاء نے ’اسلامی انتہا پسندی‘ کو فروغ دیا جبکہ جنرل مشرف نے’سیکولر انتہا پسندی‘ کو۔  فراز قریشی،کراچی، پاکستان |
فراز قریشی،کراچی، پاکستان: جمہوریت کبھی بھی ٹینک یا بندوق کے ذریعہ سے نہیں آ سکتی۔ جس دن اس بات کا احساس جنریلوں کو ہو گیا اسی دن پاکسان میں جمہوریت آ جائے گی۔ مشرف کے پانچ سال بالکل ضیاء کے پانچ سالوں کی طرح گزرے، فرق صرف اتنا ہے کہ جنرل ضیاء نے ’اسلامی انتہا پسندی‘ کو فروغ دیا جبکہ جنرل مشرف نے ’سیکولر انتہا پسندی‘ کو۔مالک سید، پامڈیل، امریکہ: صدر مشرف صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کی بقا ہیں۔ سارا فتنہ ان ملاؤں کا کیا پھیلایا ہوا ہے۔ علامہ اقبال نے تھیک فرمایا تھا، دینِ ملا فی سبیل اللہ فتنہ۔ اظہر شاہ، کراچی، پاکستان: اگر گیارہ ستمبر کا واقعہ نہ ہوتا تو مشرف حکومت کے پاس اتنا پیسہ ہی نہ ہوتا جس کو یہ آج اپنی بہترین پالیسیوں کا پھل کہہ رہے ہیں۔اب پیسہ تو ہے لیکن سکون نہیں ہے۔ حکومت کی تجوریاں بھری ہیں مگر لوگوں کے ہاتھ خالی ہیں۔ اخلاق احمد، مانسہرہ، پاکستان: یہ پاکستان کی عوام کی سب سے بڑی بدقسمتی ہے کہ ملک میں کوئی جمہوریت نہیں۔ ساری قوم مشرف کے خلاف ہے لیکن انہوں نے دو دو عہدے سنبھالے ہوئے ہیں۔ عزیز عالم، کیلیفورنیا، امریکہ: مشرف کی طرح کے آمر ہمیشہ پاکستان میں جمہوریت اور آئین کے ساتھ کھیلتے رہے ہیں۔ ان کا حال بھی وہی ہو گا جو اس سے پہلے ضیاء اور بھٹو جیسے آمروں کا ہوا ہے۔ عمران جلالی، ریاض، سعودی عرب: صدر مشرف نے بلاشبہ پاکستان کی ترقی کی لیے بہت کام کیے ہیں اور انہیں یہ کام جاری رکھنا چاہیے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کو چاہیے کہ ایک عہدہ چھوڑ دیں ورنہ پاکستان کی عوام یہ کہنے میں حق بجانب ہو گی کہ فوج کو اقتدار میں رہنے کی حوس ہے۔ نجیب الرحمٰن، بیجنگ، چین: صدر صاحب نے تو پورے ملک کو یرغمال بنایا ہو ا ہے۔ انہوں نے قوم سے کیا ہوا وعدہ سرِعام توڑا ہے اور اب پوری قوم کو مداری کے ریچھ کی طرح نچا رہے ہیں۔ ذاکر حسین، سکردو، پاکستان: یہ واقعہ جمہوریت کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ راحت اجمل راجپوت، لاہور، پاکستان: یہ بالکل غلط فیصلہ ہے کیونکہ نوے فیصد لوگ مشرف کو پسند نہیں کرتے۔ طاہر اقبال، ملتان، پاکستان: مشرف حکومت کے پانچ سال ملک کی تاریخ کا سیاہ ترین دور رہا ہے۔ وہ پاکستان میں غیر مذہبی کلچر کو فروغ دے رہےہیں۔ ملک حامد ممریز، فتح جنگ، پاکستان: جنرل مشرف کے دور میں دھڑے بازی کی سیاست کو فروغ ملا۔ جو شخص قوم کے ساتھ کیے ہوئے وعدے سے مکر جائے اس کا کیا اعتبار۔ ان کو اقتدار کا لالچ ہے۔ |