BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 April, 2004, 18:48 GMT 23:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیاسی امور میں فوج کا کردار
News image
پاکستان کے سینیٹ نے ایک نئے قانون کو منظور کیا ہے جس کے تحت پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ فوج کا باقاعدہ طور پر سیاسی امور میں کردار متعین کر دیا گیا ہے۔
اس نئے قانون کے تحت تیرہ رکنی قومی سلامتی کونسل کا قیام ہو گا جس میں فوج کے چار اعلیٰ عہدیدار سیاسی رہنماؤں کے ساتھ بیٹھیں گے۔

یہ کونسل حکومت کو سلامتی اور ملکی مفاد کے دیگر معاملات میں معاونت فراہم کرے گی۔

آپ کے خیال میں کیا فوج کو ملک کے سیاسی امور میں کردار ادا کرنے کا اختیار ہونا چاہئے؟ اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچے گا یا فائدہ؟ خود فوج کے ادارے پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

محمد ایف خان مبشر، مسقط: ملک کے انتظا اور تحفظ میں یہ نہایت ہی اہم قدم ہے۔ ملک کے مستقبل کے لئے یہ اچھا ہوگا۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد: آرمی کو ہر جگہ حصہ کھانے کی عادت ہوگئی ہے۔

صالح محمد، راولپنڈی: آپ یہ دیکھیں کہ پچھلے پچپن سال میں فوج نے تیس سال سے بھی زائد حکومت کیا ہے۔ پاکستان کو اس سے کیا ملا؟ پاکستان کو صرف اور صرف گھاٹا ہی ہوا کیونکہ ملٹری گورنمنٹ امریکی اشاروں پر چلتی ہیں۔

وقار احمد، ریاض: حدیث میں مفہوم ہے کہ جب کسی قوم میں جھوٹ، فریب، دھوکہ، رشوت، زنا، ناحق قتل، جیسے امراض پیدا ہونگے تو اللہ ان پر ایسا حکمران مسلط کرے گا جو ان کو جائز حق نہیں دے گا۔

جمہوریت نے ہمیں کیا دیا ہے؟
 جمہوریت نے ہمیں کیا دیا ہے؟ آج تک جتنے بھی منتخب وزیراعظم آئے ہیں سب لٹیرے ہی نکلے۔ یہ بھی درست ہے کہ پھر فوج نے ہمیں کیا دیا ہے؟ فوج نے ہمیں ضیاءالحق جیسا آمر تو دیے ہیں مگر مشرف جیسا صدر بھی دیا ہے۔ میرا تو یہ خیال ہے کہ فوج کا کردار ہو نہ ہو، سیاست میں مشرف کا کردار ہونا چاہئے۔
قیصر، چین

قیصر، چین: جمہوریت نے ہمیں کیا دیا ہے؟ آج تک جتنے بھی منتخب وزیراعظم آئے ہیں سب لٹیرے ہی نکلے۔ یہ بھی درست ہے کہ پھر فوج نے ہمیں کیا دیا ہے؟ فوج نے ہمیں ضیاءالحق جیسا آمر تو دیے ہیں مگر مشرف جیسا صدر بھی دیا ہے۔ میرا تو یہ خیال ہے کہ فوج کا کردار ہو نہ ہو، سیاست میں مشرف کا کردار ہونا چاہئے۔

اشرف بنیری، پاکستان: فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے، نہ کہ حکومت کرنے کا۔

محمد وقاص، آسٹریلیا: محمد عامر صاحب کو چاہئے ذرا دنیا کے نقشے پر ایک نظر ڈال کر کسی ایک ترقی یافتہ ملک کا نام بتادیں جہاں فوج کی وجہ سے معیشت، تجارت اور روزگار میں ترقی ہوئی ہو۔ کیا پاکستان ایک فوجی نے بنائی تھی؟ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ اسلامی جمہوریت ہی میں ہماری بقا ہے، نہ کہ مشرف کی جمہوریت نما آمریت میں۔

شاہدہ اکرم، ابوظہبی: ہونا تو بہت کچھ چاہئے لیکن آپ کے چاہنے، نہ چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔ ہوگا وہی جو بڑے بھائی صاحب چاہتے ہیں اور رہا سوال اس بات کا کہ فوج کو کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں تو فوج صرف ملکی سرحدوں کی حفاظت کی ہی ذمہ دار ہوتی ہے۔ لیکن کیا کریں؟ اپنے ملک میں اتنے مسائل ہیں کہ اس کو ہر بات میں ہی حصہ لینا پڑتا ہے۔

شاہد علی، ٹورنٹو: یہ کوئی نئی بحث نہیں کیوں کہ ہم پاکستانی فوجی حکومت اور ظلم و زیادتی کے عادی ہوچکے ہیں۔ بس ایک عام پاکستانی پچپن سال سے اس آس میں ہے کہ شاید کوئی نیا جنرل یا نئی حکومت اچھی ہو۔ پاکستان میں ار کبھی جمہوری نظام قائم ہونے دیا جاتا تو آج ہم ایک ترقی یافتہ اور خودمختار ملک میں رہ رہے ہوتے۔

شیر یار خان، سنگاپور: ہر ملک میں اپنی اپنی طرح کی جمہوریت اور اسے کے اپنے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، روس اور انڈیا کی مثال سامنے ہے۔ پاکستان میں عوام نے ہمیشہ فوج کو خوش آمدید کہا ہے سوائے ان سیاستدانوں کے جن کی حکومتیں فوج کے ذریعے ہٹائی گئیں۔ سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں نے بھی ہمیشہ فوجی حکومتوں میں شمولیت اختیار کی، اس لئے یہ ایک اچھا قدم ہے۔ ورنہ مستقبل میں پھر کوئی مارشل لاء لگ سکتا ہے۔

حمید سعید، خیرپور میر: میری رائے میں فوج کا سیاست میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہئے، یہ جمہوریت کے لیے برا ہے۔

سیف اللہ خان سالار زئی: عام طور پر فوجی ہمیشہ بدعنوانی کو ختم کرنے آتے ہیں۔ سابقہ حکومتوں کو کارستانیاں ہمارے سامنے ہیں۔ پاکستان میں اب کوئی بھی سیاسی پارٹی قابلِ اعتبار نہیں۔ فوج کم سے کم ایسی حرکات تو نہیں کرے گی، اس کے رہنے سے آئندہ کے لئے سیاسی پارٹیاں محتاط تو ہو جائیں گی اور ایسی حرکات نہیں کریں گی جس سے ملک کی بربادی ہو۔ میری نظر میں مشرف نے ایک بہت اچھا فیصلہ کیا ہے۔

اشفاق نذیر، جرمنی: پاکستان میں فوج ہمیشہ ایک فاتح کی حیثیت سے رہی ہے اور اس نے بار بار پاکستان کو فتح کیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ نہ تو سیاست دان ہیں اور نہ عوام۔ اس کی سب سے بڑی وجہ امریکہ ہے۔ اسے جو لوگ درکار ہوتے ہیں وہ صرف پاکستان فوج میں ہی دستیاب ہیں۔ اب وہ بار بار تکلیف سے بچنے کے لئے فوج کو مستقل مسلط کرنا چاہتا ہے جبکہ دنیا میں پاکستان کو جمہوریت کے طور پر بھی پیش کیا جا سکے۔ پاکستان کے سیاسی امور میں فوج کا کردار کسی بھی صوررت میں نہیں ہونا چاہئے بلکہ فوج ہونی ہی نہیں چاہئے۔ جب بھی جنگ ہوتی ہے یہ ہار جاتے ہیں اور معافی مانگ لیتے ہیں۔ یہ کام تو سویلین بھی کر سکتے ہیں۔

بچا کیا ہے؟
 جب فوج آئین کو تہس نہس کرکے ایک منتخب وزیرِ اعظم کو پھانسی پر چڑھا سکتی ہے، تین تہائی اکثریت لینے والے وزیرِ اعظم کو ملک بدر کر سکتی ہے، اپنے سائنس دانوں کو دنیا بھر میں ذلیل کر سکتی ہے تو سیاست میں کوئی کردار کیوں ادا نہیں کر سکتی؟
نعمان احمد، راوالپنڈی کینٹ

نعمان احمد، راوالپنڈی کینٹ: مہذب معاشروں میں فوج کا سیاست سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ جہاں تک تعلق ہے پاکستان کا تو یہاں فوج کے کردار کا فیصلہ کرنے والے عوام کون ہوتے ہیں۔ جب فوج آئین کو تہس نہس کرکے ایک منتخب وزیرِ اعظم کو پھانسی پر چڑھا سکتی ہے، تین تہائی اکثریت لینے والے وزیرِ اعظم کو ملک بدر کر سکتی ہے، اپنے سائنس دانوں کو دنیا بھر میں ذلیل کر سکتی ہے تو سیاست میں کوئی کردار کیوں ادا نہیں کر سکتی؟ بس اب اس کے غیر قانونی اور غیرآئینی کردار کو ایک قانون کی حیثیت دے دی گئی ہے۔

محمد عامر خان، کراچی: سارے ممالک کی سیاست میں بہرحال فوج کا کردار ضرور ہوتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ امریکی حکومت فوج کے سامنے اپنی کتنی مرضی چلاتی ہے، یہی حال انڈیا اور برطانیہ کا بھی ہے۔ انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے لیکن ہر سال ان کی حکومت فوج کے دباؤ میں آکر اس کا بجٹ دس سے پندرہ فیصد تک بڑھا دیتی ہے۔ فوج مسلح ہونے کے ساتھ ساتھ بہت منظم ہوتی ہے اس لئے اس کی برتری سب پر حاوی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد