BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغاوت کا الزام اور سزا
جاوید ہاشمی پر فوج کے خلاف نفرت پھیلانے کا الزام تھا
جاوید ہاشمی پر فوج کے خلاف نفرت پھیلانے کا الزام تھا
پاکستان کی ایک عدالت نےمسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید ہاشمی کو بغاوت کے مقدمے میں سات سال قید با مشقت اور سات مختلف مقدمات میں مجموعی طور پر تئیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔

جاوید ہاشمی ملک کے پہلے سیاستدان نہیں جنھیں بغاوت کے الزامات کا سامنا ہے۔ پاکستان میں بیشتر حکمرانوں کے دور میں سیاسی مخالفین پر بغاوت اور امن امان درہم برہم کرنے کی سازش کے الزامات کے تحت مقدمات قائم کیے جاتے رہے ہیں جن میں راولپنڈی سازش کیس، اگرتلہ سازش کیس ، حیدرآباد ٹریبیونل اور اٹک سازش کیس نمایاں ہیں۔

جاوید ہاشمی کی سزا پر آپ کا ردِّ عمل کیا ہے؟ کیا جاوید ہاشمی واقعی اس سزا کے مستحق تھے؟ کیا پاکستان میں حکومتیں صرف اپنے مخالفین کو دبانے کے لئے بغاوت کے تحت مقدمات قائم کرتی رہی ہیں یا ان کا مقصد ریاست کا تحفظ ہے؟ آپ کا ردِّ عمل

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد: جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ ہر چیز ہر موقعے پر بکتی ہے، خریدار ہونا چاہئے۔ ہمارے حکمرانوں تو سب کچھ لوٹ سیل پر لگایا ہوا ہے۔

صالح محمد، راولپنڈی: جاوید ہاشمی کا گناہ فوج کی بدمعاشی کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔ بھلا پاکستان میں فوج سے زیادہ محبِ وطن، جان نثار اور قابل ہو سکتا ہے۔ ریاست کا تحفظ تو پاکستان فوج نے انیس سو اکہتر میں بھی خوب کیا تھا اور اس بار جاوید ہاشمی کو سزا دے کر کر رہی ہے۔

یس سر
 ہاشمی مشرف کو سلوٹ ماریں اور یس سر کہیں تو باہر آسکتے ہیں۔
آصف ججہ، ٹورنٹو

آصف ججہ، ٹورنٹو: اگر جاوید ہاشمی مشرف کو سلوٹ ماریں اور یس سر کہیں تو باہر آسکتے ہیں۔

خورشید احمد، پاکستان: جس ملک کی عدلیہ بدعنوان ہو وہاں یہی ہوتا ہے۔ مشرف نے آئین سے غداری کی، سیاستدن اچھے نہیں ہیں، حکومت میں آکر فرعون بن جاتے ہیں۔ جو مخلص لوگ ہیں انہیں حکومت میں آنے ہی نہیں دیا جاتا۔

شاد خان، ہانگ کانگ: میرے خدا، بدلے کی سیاست کب ختم ہوگی۔ مشرف بھی بارود کے ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایک بار ان کی وردی اتر جائے ان کا انجام عبرت ناک ہوگا۔

محمد عارف خان، ایبٹ آباد: ایک کمزور عدلیہ انصاف فراہم نہیں کرسکتی اور نہ ہی ایک سچے معاشرے کی تعمیر کر سکتی ہے۔

عمران نور، ٹورنٹو: جابر سلطان کے آگے کلمہِ حق کہنا سب سے بڑا جہاد ہے۔ جاوید ہاشمی نے مسلم لیگ کو پھر سے زندہ کر دیا ہے۔ لوگ مر جاتے ہیں لیکن نظریہ نہیں مرتا۔

عبدالرشید ملک، فرانس: یہ سب آخرت کی نشانی ہے۔

محمد وسیم اختر، مظفر گڑھ: جاوید ہاشمی کو سزا ہونا افسوس ناک ہے لیکن یہ ہمارے سیاسی رہنماؤں کی سمجھ بوجھ کے دیوالیہ پن کا واضح نتیجہ ہے جو ایک آمر کو سازشوں اور دوسرے غیرقانونی طریقوں سے ہٹانا چاہتے ہیں اور یہ بھی نہیں سوچتے کہ اس کا انجام ایک اور آمر ہے۔ مشرف کتنے برے کیوں نہ ہوں انہیں ایک عوامی آگہی اور تحریک سے ہی ہٹایا جا سکتا ہے۔ فوج کے ادارے کے ڈسپلن کو تباہ کرنے سے ایک اور بری تبدیلی ہی آئے گی جس کی بھاری قیمت ہمارا ملک اور اس کا نازک آئینی ادارہ نہیں ادا کر سکتا۔

اجمل خان، امریکہ: آزادیِ اظہار ہر پاکستانی کا حق ہے اور اسے دیا جانا چاہئے۔

محمد آصف، کراچی: یہ سزا بلاشبہ ایک سیاسی انتقام ہے اور اس پالیسی کا نتیجہ ہے کہ ایک غیر مقبول حکومت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبا دیا جائے۔

محمد صادق، جنوبی کوریا: پاکستان میں کوئی قانون نہیں ہے اور ہماری عدالتیں اور انصاف حکومت کی جائداد ہیں۔

گفت و شنید پر نہ جائیے،
اس کیس نے کچھ باتیں پھر سے ثابت کر دی ہیں۔ ایک تو یہ کہ پاکستان میں عدالتیں اور آئین صرف آمروں کے ہاتھوں میں کھلونے ہیں اور دوسرا یہ کہ یہ آمر سابقہ آمروں سے کسی طور مختلف نہیں ہے۔
فیضان رشید، کینیڈا

فیضان رشید، کینیڈا: اس کیس نے کچھ باتیں پھر سے ثابت کر دی ہیں۔ ایک تو یہ کہ پاکستان میں عدالتیں اور آئین صرف آمروں کے ہاتھوں میں کھلونے ہیں اور دوسرا یہ کہ یہ آمر سابقہ آمروں سے کسی طور مختلف نہیں ہے۔ ان کی گفت و شنید کی شیرینی پر نہ جائیے، مشرف کسی طور ان حکمرانوں سے مختلف نہیں ہیں جو اپنے مخالفین کو خاموش رکھنے کے لئے ہر قدم اٹھانے کو تیار رہتے ہیں۔ میں حزبِ اختلاف کی تمام جماعتوں اور خاص طور پر جاوید ہاشمی کو مبارک باد پیش کرتا ہوں جو جمہوریت اور قانون کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ قانون سے بالا تر کسی کو نہیں ہونا چاہئے اور صرف ایک ہی شخص ہے جس نے آئین کو معطل کرکے اور اپنا حلف توڑ کر بغاوت کی ہے۔ میں اس دن کا منتظر ہوں جب فوج اپنے اقدامات کے لئے جواب دہ ٹہرائی جائے گی۔

محمد عامر خان، کراچی: مخالفت برائے مخالفت اچھی بات نہیں ہے۔ مشرف حکومت کو جو کریڈٹ جاتے ہیں وہ ہمیں اسے دینے چاہئیں۔ جاوید ہاشمی اس سزا کے مستحق تھے۔ وہ حکومت کی اچھی شہرت کو اوچھے ہتھکنڈوں سے نقصان پہنچا رہے تھے۔

عرفان انصاری، گوادر: یہ بالکل درست فیصلہ ہے۔ ملک و قوم کے ساتھ غداری کا یہی انجام ہوتا ہے۔

شازیہ شیرازی، سرگودھا: مشرف آیین سے غداری کے مرتکب ہوئے ہیں اور ان کا انجام ضیاء الحق جیسا ہوگا۔

محمد سلیم، راوالپنڈی: یہ سراسر ناانصافی اور ظلم پر مبنی فیصلہ ہے۔ فوج نے ملک میں کئی بار حکومت پر قبضہ کیا ہے لیکب وہ پھر بھی محبِ وطن کہلاتی ہے اور جو اس کے خلاف صدائے احتجاج بنے وہ قصوروار ٹہراتا ہے۔

جیسی کرنی ویسی بھرنی
 جب جاوید ہاشمی کا دورِ حکومت تھا تب بھی بغاوت کے مقدمے بنے، ماورائے عدالت قتل ہوئے اور جاوید بھائی سمیت تمام ہمجولی وہی کہانیاں دہرا رہے تھے جو آج کے حکمران دہرا رہے ہیں۔
ظفر محمد خان، مونٹریال

ظفر محمد خان، مونٹریال: جب جاوید ہاشمی کا دورِ حکومت تھا تب بھی بغاوت کے مقدمے بنے، ماورائے عدالت قتل ہوئے اور جاوید بھائی سمیت تمام ہمجولی وہی کہانیاں دہرا رہے تھے جو آج کے حکمران دہرا رہے ہیں۔ سچ ہے جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ یہ سراسر سیاسی مسئلہ ہے اور پاکستان کی سیاست کے بنیادی اسباق میں سے ایک یعنی جو حکمران ہے وہ محبِ وطن ہے اور جو نہیں۔۔۔۔

اشرف بونیری: اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں جمہوری حکومت ہو یا فوجی، سب اپنے اپنے مخالفوں کو گھیرتے ہیں۔

معاویہ عسکری، کراچی: صرف چھ منٹ میں سزا سنادی گئی۔ الزامات کے سچ یا جھوٹ ہونے کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔ یہ انصاف کے ساتھ مذاق ہے۔ ہماری چاپلوس عدلیہ سے حکمران جو فیصلہ چاہیں دلوا لیتے ہیں۔

سیف اللہ خان سالار زئی: یہ تو حقیقت ہے کہ کوئی بھی حکومت ہو، فوجی یا غیر فوجی، مخالفین کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔ پرانے وقتوں میں بھی یہی ہوتا تھا۔ کسی کو قید کر دیا جاتا ہے تو کسی کو قتل۔ جاوید ہاشمی حکومت کے ساتھ چلتے تو آج کسی وزیر کے عہدے پر ہوتے۔ سچ ہے کہ جس کا راج ہو اسی کا طوطی بولتا ہے۔

حسیب خان، کراچی: عدالتوں نے پاکستان کی تاریخ میں سیاسی سطح کے فیصلوں پر کبھی بھی جرات نہیں دکھائی۔ باقی رہی حکومتیں اور خاص کر فوج تو مشرف ان تمام حرکتوں کو دہرارہے ہیں جو اس سے پہلے تمام فوجی حکمران دہرا چکے ہیں۔ وہ بھٹو کا چہرہ لگا کر ضیاء الحق کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ بالآخر ان کی منزل بھی وہی نہ ثابت ہو جو ان دونوں کی ہوئی۔

حقائق ہمیشہ چھپائے جاتے ہیں
 پاکستان میں حقائق ہمیشہ لوگوں سے چھپائے جاتے ہیں۔ مشرف اینڈ کمپنی کو معلوم ہے کہ جیسے ہی اقتدار ان کے ہاتھ سے نکلا انہیں مقدمات کا سامنا کرنا ہی پڑے گا۔
نوشاد طالب حسین، ایمسٹر ڈیم

نوشاد طالب حسین، ایمسٹر ڈیم: سب کو معلوم ہے کہ مشرف اقتدار میں کیوں آیے اور کارگل کا ڈرامہ کیوں کھیلا گیا؟ جاوید ہاشمی نے پریس کانفرنس میں جو خط پڑھا تھا وہ اصلی تھا لیکن پاکستان میں حقائق ہمیشہ لوگوں سے چھپائے جاتے ہیں۔ مشرف اینڈ کمپنی کو معلوم ہے کہ جیسے ہی اقتدار ان کے ہاتھ سے نکلا انہیں مقدمات کا سامنا کرنا ہی پڑے گا۔ جاید ہاشمی کو ہونے والی سزا حکومت کی منشاء کے مطابق دی گئی ہے اور سب پر یہ بات عیاں ہے۔ جاوید ہاشمی ایک سچے پاکستانی ہیں اور انہوں نے ہمیشہ سچ بولا ہے۔ وہ مشرف اینڈ کمپنی کے لئے ایک حقیقی خطرہ تھے اور عدلیہ نے پاکستان میں آج تک کبھی فوج کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد